Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

فیلڈ مارشل کا خطاب، کڑوا سچ

چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پچھلے ہفتے علمائے کرام سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ملک میں مذہبی جذبات کو تشدد کے لئے بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی دوسرے ملک میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ملاقات کے دوران ملک میں قومی سلامتی، اتحاد، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق فیلڈ مارشل نے گمراہ کن معلومات اور فرقہ واریت کی بنیاد پر غیر ضروری اشتعال پھیلانے کی بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے میں حکومت سے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علمائے کرام سے کہا کہ وہ اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اور انتہاپسندی کے خاتمے میں مثبت کردار ادا کریں ملاقات کے دوران شیعہ جماعتوں اور تنظیموں کے علمائے کرام نے مذہب کے نام پر تشدد کی سخت مذمت کی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ لیکن اس ملاقات کے ایک دو روز بعد اچانک فرقہ وارانہ بنیادوں پر بیان بازی کا سلسلہ شروع کیا گیا اور بعض عناصر کی طرف سے فیلڈ مارشل سے ایسے الفاظ اور ان کا خودساختہ مفہوم منسوب کیا گیا جس نے سوشل میڈیا پر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف ا منفی تاثر ابھارنے والی مہم کی صورت اختیار کر لی۔ پاکستان میں ایران اور سعودی عرب کے ساتھ فرقہ وارانہ ہمدردی رکھنے والی جماعتوں کا تو یہ دل پسند مشغلہ ہے کہ انہیں اپنے بیرونی کرم فرمائوں کو خوش کرنے کا کوئی موقع ملے، ایک طبقے نے اپنی انتہا پسندانہ سوچ کو اختیار کرنے کی کوشش تو دوسری طرف سے بھی ایسےہی عناصر حرکت میں آ گئے۔ دفاع پاکستان کونسل کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور مسلح افواج کے خلاف سوشل میڈیا پر مختلف جماعتوں اور رہنمائوں کی جانب سے منفی پروپیگنڈے کی مذمت کرتے پیں، یہ ملک کی افواج کے خلاف سازش ہے، وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس منفی مہم کے حامی جو افراد کلیدی عہدوں پر ہیں ان کو فوری ہٹایا جائے،ملک میں انتشار کرنے پھیلانے والی جماعتوں اور رہنمائوں پر فوری پاپندی لگائی جائے۔ عالمی حالات کے تناظر میں تمام طبقات متحد ہوجائیں اور ملک کی سا لمیت و تحفظ کے لیے اپنی مسلح افواج کا ساتھ دیں۔27 مارچ کو افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی اور ملک میں اتحاد واتفاق کے لئے یوم دفاع پاکستان منایا جائے گا۔ کراچی کے ایک بڑے اردو اخبار کے مطابق ان خیالات کا اظہار مولانا اورنگزیب فاروقی، تاج حنفی، عاقب سواتی، اشرف میمن سمیت کئی علماء کرام اور رہنمائوں نے کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔اس موقع پر پاک افواج سے مکمل اظہار یکجہتی کیا گیا۔پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے کہ جہاں ایسی جماعتوں اور تنظیموں کو کھلم کھلا سرگرمیوں کی اجازت ہے جن کا بیانیہ ریاست سے اکثر ٹکراتا رہتا ہے، ان میں شیعہ و سنی دونوں مسالک کی ان گنت تنظیمیں شامل ہیں ، اور حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ سعودی عرب و ایران سمیت جن ممالک کی وفاداری کا یہ شیعہ سنی جماعتیں دم بھرتی ہیں وہاں ریاستی بیانیہ کی مخالفت پر مبنی سیاسی سرگرمیوں کی بالکل اجازت نہیں۔ ریاستی بیانیہ سے متصادم ہر قسم کی ایکٹیویٹی پر سخت پابندی والی ایرانی و سعودی پالیسی جب پاکستان میں نافذ کرنے کی بات کی جاتی ہے تو ہمارے یہ شیعہ سنی بھائی اس کو آزادی اظہار اور سیاسی سرگرمیوں کی آزادی کے حق پر ڈاکہ قرار دیتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی اپنی وفاداریوں کے مراکز یعنی ایران و سعودی عرب میں اس ریاستی پالیسی کی کبھی مذمت نہیں کی۔ہمارے ہاں کچھ جذباتی سوشل میڈیا واریئرز اور کچھ سیاسی و دینی جماعتیں نئی نسل میں حالیہ واقعات کی بنیاد پر اپنے اپنے انداز میں اشتعال پیدا کرنے کوشش کر رہی ہیں، اس لیئے اپنی نئی نسل کی سوچ کو حقیقت پسندانہ بنانے کیلئے یہ آئینہ دکھانا بھی لازم ہے ایران یا سعودی عرب کو خوش کرنے کی جنگ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑی جانی چاہیئے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خطاب کا اصل نچوڑ یہی ہے اور یہ کڑوا سچ نگلناکچھ اہل وطن کے لئے مسئلہ بنا ہوا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی معاشرے کو اندرونی انتشار اور فتنہ انگیزی سے بچانے کے لیے بروقت اور بے لاگ انتباہ دراصل ایک ایسے تاریخی شعور کی عکاسی کرتا ہے جو قوموں کی بقا میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالمی چپقلشوں کے تناظر میں مختلف خطوں میں جنگوں اور تصادم نے شدت اختیار کی، تو براہِ راست محاذ سے کہیں زیادہ خطرناک وہ اندرونی خلفشار ثابت ہوا جو دشمن قوتیں پراکسی، پروپیگنڈہ اور فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعے مختلف ٹارگٹ ممالک میں پیدا کرتی رہیں۔ برصغیر کی تقسیم کے ایام ہوں یا بعد ازاں سرد جنگ کے دور میں مختلف مسلم ممالک میں مداخلت ہر جگہ داخلی انتشار کو بیرونی مفادات کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ایسے نازک لمحات میں قیادت کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ جذباتی نعروں سے بالاتر ہو کر حقیقت پسندانہ مقف اختیار کرے اور قوم کو ممکنہ خطرات سے بروقت آگاہ کرے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بیان اسی تاریخی تسلسل کی ایک ذمہ دارانہ کڑی محسوس ہوتا ہے، جس میں انہوں نے نہ صرف بیرونی تنازعات کے ممکنہ اثرات کی نشاندہی کی بلکہ اندرونی سطح پر اشتعال انگیزی، فرقہ وارانہ تقسیم اور انتشار پھیلانے والی قوتوں کو بھی واضح پیغام دیا کہ پاکستان کو کسی اور کی جنگ کا ایندھن نہیں بننے دیا جائے گا۔ یہ وہی بصیرت ہے جو ماضی میں ان قوموں میں نظر آئی جو آزمائشوں سے سرخرو ہوئیںجہاں قیادت نے عوام کو وقتی جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے دور اندیشی، تحمل اور قومی مفاد کی راہ دکھائی۔فیلڈ مارشل کا یہ کڑوا سچ دراصل ایک قومی مکالمے کا آغاز بھی ہے، جس میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ ذہنوں، سوشل میڈیا اور داخلی ہم آہنگی کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ اگر قوم اس پہلو کو نظر انداز کر دے تو بیرونی خطرہ اندرونی کمزوریوں کے ذریعے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا بروقت انتباہ محض ایک عسکری بیان نہیں بلکہ ایک قومی حکمتِ عملی کی جھلک پیش کرتا ہے، جس میں اتحاد، شعور اور احتیاط کو بنیادی ستون کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ حساس عالمی حالات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حقیقت پسندانہ، دوٹوک اور پیشگی خبردار کرنے والا مقف نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر قوم نے اس وژن کو سنجیدگی سے لیا، تو نہ صرف ممکنہ داخلی انتشار سے بچا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان ایک ذمہ دار، باوقار اور مستحکم ریاست کے طور پر عالمی منظرنامے میں اپنی جگہ مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں