پاکستان میں جب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ریاست کے پاور اسٹرکچر میں ’’ہارڈ کور‘‘والی حیثیت حاصل کی ملک کے ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک معاملات جادوئی انداز میں معذرت خواہانہ ہچکچاہٹ کے دور سے نکل کر جرات مندانہ اور جارحانہ دفاع والے تو ہو ہی چکے ہیں لیکن یہ دنیا کی تاریخ میں شاید پہلا آرمی چیف ہے کی جو عالمی سطح پر ڈپلومیسی کا بھی فیلڈ مارشل ثابت ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ کے اس وقت 193ممالک اور2 مبصر اسٹیٹس (ویٹی کن اور فلسطین)ہیں، لیکن یہ جرات اور ہمت اللہ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل کو دی ہے کہ ایک دوسرے کے 47سال سے بدترین دشمنوں امریکہ و ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لئے آگے بڑھ کر وہ کلیدی کردار ادا کریں کہ جسے دنیا تادیر یاد رکھے گی، حیرت انگیز طور پر پہلے انہوں نے جنگ بندی کروانے میں کامیابی حاصل کی اور اب امن معاہدے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں، دنیا کا ہر ملک سید عاصم منیر کے اس کردار کو سراہ رہا ہے ماسوائے بھارت اور بھارتی میڈیا کے، کیونکہ مودی سرکار امریکہ کو اپنا اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتی ہے اور ایران کو بھی ہندوستان نے پچھلے کئی عشروں سے یہ چکمہ دیئے رکھا کہ نئی دہلی اور تہران مل کر چاہ بہار بندر گاہ کے ذریعے گوادر اور سی پیک کا متبادل روٹ وسط ایشیا اور روس کو فراہم کریں گے۔ لیکن پھر اچانک اس نے پینترا بدلا اور جب اسرائیل نے امریکی و بھارتی آشیر باد سے غزہ پر قیامت ڈھائی تو ایک بار پھر یہ دکھائی دینے لگا تھا کہ دنیا واپس یونی پولر ہونے جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا نے اس موقع پر گریٹر اسرائیل اور گریٹر انڈیا کا راگ الاپنا شروع کر دیا، غزہ جنگ کے دوران بھارت نے اسرائیل کو گولہ بارود، میزائلوں اور آرمز گریڈ اسٹیل کی تیز رفتار فراہمی کے ذریعے 80 ہزار فلسطینیوں کی نسل کشی میں اہم ترین حصہ ڈالا، اس خدمت کے عوض بھارت کا خیال تھا کہ امریکہ کے نئے ورلڈ آرڈر میں مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیاء تک اسرائیل اور بھارت خطے کے نئے تھانیدار ہوں گے، اس سرمستی میں ایران کے ساتھ کئی عشروں کی جعلی دوستی کا چوغہ بھی اتار پھینکا اور کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوگیا، مودی سرکار کے اس ’’خمار‘‘کو دیکھ کر ہمیں سردار کھڑک سنگھ یاد آ جاتا ہے، ایک دن اس کا دوست ملنے آیا تو اس نے دیکھا کہ کھڑک سنگھ ’’فل موڈ‘‘میں ہے دوست چونکہ کلاس فیلو کے ساتھ ساتھ گلاس فیلو بھی تھا اس لیئے کہنے لگا، سردار جی لگدا اے آج کجھ بوہتی ای پی لئی ہے، اس پر کھڑک سنگھ نے جواب دیا’’ہالے پیتی کتھے آ ، نوکر اج ولایتی لین گیا اے‘‘مودی سرکار نے دنیا کے دوبارہ یونی پولر ہونے سے پہلے ہی یونی پولر کے ریجنل تھانیدار کے خمار میں جو فیصلے کئے ان کی وجہ سے ایران امریکہ اسرائیل جنگ بندی کیلئے کردار ادا کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھی، اس نے نہ صرف غزہ جنگ میں اسرائیل کو طیارہ شکن و میزائل شکن ہندوستانی سسٹمز ، بارود کی بھاری مقدار اور آرمز گریڈ اسٹیل کی تیز رفتار سپلائی جاری رکھی بلکہ ایران کیخلاف حالیہ امریکی و اسرائیلی جنگ کے دوران بھی یہ سلسلہ جاری رکھا، بھارت کا خیال یہ تھا کہ اس جنگ میں ایران کو بدترین شکست ہو گی اور وہاں رجیم چینج ہو جائے گا، دوسرا آپشن یہ سوچا گیا تھا کہ پہلے مرحلے میں ایران کو سوڈان، لیبیا اور صومالیہ کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے گا اور پھر سیکنڈ فیز میں شام کی طرح وہاں ایک پرو امریکہ و پرو اسرائیل حکومت قائم کر دی جائے گی، بھارتی اسٹریٹجک دماغ المعروف اجیت دووال جو ہندوستان کا نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بھی ہے اس پالیسی کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے لیکن انڈیا کے اس سپر سپائی ماسٹر کو بھی منہ کی کھانا پڑی اور ایران نے ایسی مزاحمت کرکے دکھائی کہ بھارت ، اسرائیل اور امریکہ کے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے، بھارت چونکہ اسرائیل کا عملا اسٹریٹجک پارٹنر بن کر سعودی عرب و ایران اور روس کے سامنے بالکل بے نقاب ہو چکا تھا اس لیئے ایران امریکہ اسرائیل جنگ بندی یا ثالثی کیلئے کوئی رسمی کاوش بھی نہ کر سکا جس طرح کی ناکام سفارتی کوشش اس نے روس یوکرین جنگ بندی کیلئے چند برس قبل کی تھی۔ یوں دنیا کے 193ممالک میں یہ حوصلہ، یہ ہمت اور یہ اعزاز اللہ تعالی نے صرف پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دیا کہ انہوں نے اپنی شبانہ روز مخلصانہ کاوشوں سے اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے پہلے جنگ بندی کروانے میں کامیابی حاصل کی اور اب مستقل امن معاہدے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف ، ڈپٹی وزیراعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس ٹیم کے اہم ترین کھلاڑی ہیں جو اس بظاہر ناممکن کو ممکن بنانے میں صف اول میں رہ کر کردار ادا کر رہے ہیں۔ایران امریکہ اسرائیل جنگ بندی مذاکرات میں کئی نازک موڑ آئے لیکن سید عاصم منیر نے مایوسی و ناامیدی کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا، ان کی سدا بہار ڈپلومیسی کا کرشمہ ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ بار بار ٹوٹنے کے بعد پھر سے شروع ہو جاتا رہا، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ایک ہی دن میں پاکستان کے 2 دورے اور 24 گھنٹوں میں سید عاصم منیر کے ساتھ 2 ملاقاتیں ثابت کر رہی ہیں کہ پاک فوج کا فیلڈ مارشل ڈپلومیسی کی عالمی دنیا کا بھی “فیلڈ مارشل” ہے، اللہ کرے زور قدم اور زیادہ ۔ عباس عراقچی نے اس شٹل ڈپلومیسی کے دوران قطر کا بھی دورہ کیا ہے اور ہنگامی طور پر ماسکو پہنچ کر روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے بھی ملے ہیں، اسی دوران صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری چین کے دورے پر ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو یوں بھی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دیوانے ہیں اور انہیں اپنا فیورٹ فیلڈ مارشل قرار دیتے ہیں، اپنے تازہ ترین بیان میں بھی انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا بہت احترام کرتا ہوں، پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم بہت اچھے اور قابل احترام ہیں۔ایران جنگ جلد ختم ہو جائیگی، دنیا کی تینوں سپر پاورز کے ساتھ پاکستان کے تعلقات آج اس مقام پر ہیں کہ جس طرح فیصل آباد میں گھنٹہ گھر کی پوزیشن ہے کہ آپ جس بازار میں بھی کھڑے ہو کر دیکھیں سامنے گھنٹہ گھر ہی نظر آئے گا۔