Search
Close this search box.
جمعرات ,16 جولائی ,2026ء

فوجی جوان، تنخواہ اور مولانا کی عجیب منطق

اپنی جان قربان کرنے کے خطرات مول لے کر ملک و قوم کیلئے میدان جنگ میں اترنا ایک مقدس ترین عمل ہے، لیکن جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قصور میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران اپنے روایتی موقف کو دہراتے ہوئے اس بار ہر حد پار کر دی ہے ان کا یہ کہنا کہ فوجی جوان اپنی ڈیوٹی کرتا ہے، اس کی تنخواہ لیتا ہے۔ یہ نہ کہا جائے کہ وہ ہم پر کوئی احسان کر رہا ہے” انتہائی حیران کن اور افسوسناک طرز عمل ہے، یہ ملک و قوم کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے والے یا زخمی ہو کر زندگی بھر کیلئے معذور ہو جانے والے پاک فوج کے افسروں و جوانوں کی قربانیوں کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں صدیوں سے مسلمہ اخلاقی، مذہبی اور سیاسی نظریات کی بھی نفی ہے، مولانا خود بھی ایک بڑے عالم دین ہیں، ایک بڑے عالم دین کے بیٹے ہیں اور اور ایک بڑی دینی جماعت کے سربراہ ہیں، اس لیئے ان کے علم میں ہو گا کہ شوق شہادت کے ساتھ میدان جنگ میں اترنے کا تعلق محض تنخواہ سے نہیں ہوتا، اسلامی تاریخ میں غزوات سے لے کر خلافت راشدہ کے دور کی تاریخی جنگوں تک جو اس وقت کی دو سپر پاورز ایران اور روم کے خلاف لڑی گئیں، صحابہ کرام نے بے مثال قربانیاں دیں، ان غزوات اور جنگوں میں فتوحات کے موقع پر ملنے والے مال غنیمت کے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کر دیئے جاتے تھے اور پانچواں حصہ (خمس) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یعنی بیت المال میں جمع کروایا جاتا تھا، اور آخر کار یہ پانچواں حصہ بھی مسلمانوں پر ہی خرچ کر دیا جاتا تھا، یوں ہم دیکھتے ہیں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیر قیادت غزوات میں بھی صحابہ کرام کو جنگ میں شریک ہونے اور فتوحات پر مالی فائدے یعنی مال غنیمت میں سے حصہ ملتا تھا لیکن قرآن پاک میں یا احادیث مبارکہ میں کہیں یہ ذکر نہیں ملتا کہ جس میں یہ کہا گیا ہو کہ جنگ میں شریک ہونے والے مسلمان مال غنیمت میں سے اپنا حصہ لیتے ہیں اس لیئے غزوات میں شریک ہو کر وہ کسی پر کوئی احسان نہیں کرتے۔اس کے برعکس قرآن پاک میں بھی اور احادیث مبارکہ میں بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں اترنے والے شہداء اور غازیوں کے عظیم مرتبے کا ذکر بار بار ملتا ہے، اس لیئے مولانا کا اس عمل کو صرف تنخواہ سے جوڑنا خود اسلامی تعلیمات، فرمان الہٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ کے فرمودات کے بھی منافی ہے۔سیاسی حوالے سے بھی میدان جنگ میں اترنے والوں کا مقام و مرتبہ دوسرے مسلمانوں سے ممتاز رہا ہے، غزوہ بدر میں شریک صحابہ کرام کو تاحیات اعلیٰ و ارفع مقام سیاسی و سماجی حوالے سے غیر متنازع طور پر حاصل رہا، اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، صلح حدیبیہ اور فتح مکہ میں شریک صحابہ کرام کا مقام درجہ بدرجہ رہا، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دور میں جب مال غنیمت کی بہتات کی وجہ سے مدینہ میں وظائف مقرر کیئے گئے تو بھی سب سے زیادہ وظائف درجہ بدرجہ ان غزوات میں شریک صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ کو دیئے جاتے رہے اور تاریخ میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ملتا کہ یہ مالی فائدے حاصل کرنے والوں سے کبھی یہ کہا گیا ہو کہ آپ کو غزوات کے دوران مال غنیمت میں سے حصہ بھی مل چکا،
برسوں تک بیت المال سے بڑے بڑے وظائف بھی مل چکے، اس لیئے آپ نے جن غزوات میں حصہ لیا یا جو جنگیں لڑیں، یہ کام کرکے آپ نے کوئی احسان نہیں کیا، بلکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے تاریخ اسلامی کا، ہمارے مذہبی عقائد کا اور قرآن و حدیث میں دیئے گئے واضح اعلانات کا، کہ اللہ، اسلام اور ملک و قوم کیلئے میدان جنگ میں اترنے والوں کا مقام و مرتبہ تاقیامت اعلیٰ و ارفع رہے گا اور کسی قسم کا مال غنیمت ملنا، وظائف دیا جانا یا تنخواہوں کی ادائیگیاں اس مقام و مرتبے کو کم نہیں کر سکتیں، اس لیئے مولانا فضل الرحمٰن نے قصور میں جو خطاب فرمایا ہے اور اس سے قبل بھی وہ اس سے ملتی جلتی جو گفتگو کرتے رہتے ہیں وہ کسی بھی طرح ایک عالم دین کے شایان شان نہیں۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے مذکورہ بیان پر ملک بھر میں سخت صدمے کی کیفیت رہی اور اب اطلاعات یہ ہیں کہ ان کیخلاف قصور میں بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا، جس کے تحت جرم ثابت ہونے پر انہیں عمر قید یا قید (مدت عدالتی فیصلے کے مطابق) کی سزا اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ایک شہری محمد اسلم کی درخواست پر تھانہ صدر قصور میں تین مختلف دفعات کے تحت درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 13 جولائی کو قصور میں جلسے کے دوران مولانا فضل الرحمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوجی شہداء کے بارے میں دل آزار اور توہین آمیز ریمارکس دئیے، دفعہ 124-اے بغاوت ، اور اس کے علاوہ ریاست کے خلاف نفرت یا بے وفائی پر اکسانے اور ہوا دینے سے متعلق ہے۔ دفعہ 153-اے مختلف طبقات کے درمیان نفرت یا دشمنی پھیلانے،مختلف گروہوں یا طبقات کے درمیان عداوت یا نفرت کو فروغ دینے کا جرم ہے۔اس کی سزا عام طور پر پانچ سال تک قید، جرمانہ، یا دونوں ہوسکتی ہیں۔ دفعہ 505-ب عوام میں خوف، بدامنی یا بغاوت پر اکسانے والے بیانات، اور ایسے بیانات یا افواہیں پھیلانے پر عائد ہوتی ہے جن سے عوام یا مسلح افواج میں بے چینی یا امن عامہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔اس کی سزا سات سال تک قید،جرمانہ، یا دونوں ہوسکتی ہیں۔پاکستان کا سیاسی منظر نامہ پہلے سے ہی سخت کشیدگی کا شکار ہے، مولانا کی قصور والی اس تقریر نے اس کشیدگی کی جلتی پر تیل گرا دیا ہے، حکومت و ریاستی ادارے ایک امتحان سے دوچار ہو گئے ہیں، وہ اس بیان کو نظر انداز کرتے ہیں تو مسئلہ ہے اور اگر اس پر قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہیں اور مولانا کو گرفتار کرکے بغاوت کیس چلایا جاتا ہے تو بھی مسئلہ ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست و حکومت اس تشویشناک صورتحال سے کس طرح نمٹتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں