جدید مغربی معاشرے کے لیے دینی مدارس کا پیغام
دینی مدارس کے حوالے سے اس وقت یہ صورت حال ہمارے سامنے ہے کہ ایک طرف دینی مدارس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نئی دینی درس گاہیں قائم ہو رہی ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس
دینی مدارس کے حوالے سے اس وقت یہ صورت حال ہمارے سامنے ہے کہ ایک طرف دینی مدارس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نئی دینی درس گاہیں قائم ہو رہی ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس
ابھی چند دن پہلے ہماری دینی قیادت نے یہیں اسلام آباد میں اکٹھے ہو کر ایک فتویٰ دیا ہے جس پر ملک میں باتیں کی جا رہی ہیں کہ علماء کو جہاد کا فتویٰ دینا اب یاد آیا ہے؟ میں
فلسطین انبیاء کرام علیہم السلام کا وطن ہے، بیت المقدس کی سرزمین ہے، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز ہے۔ اس کی تاریخ کا آغاز سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت سے ہوتا ہے
(گزشتہ سے پیوستہ) میں اس کے جواب میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اس قسم کے اسلام کا مطالبہ طائف والوں نے کیا تھا جس کا ذکر مولانا سید سلیمان ندویؒ نے ’’سیرت النبی‘‘ میں قبیلہ ثقیف کے قبول اسلام
جہاں تک علمائے کرام کے حوالہ سے موجودہ صورت حال کا تعلق ہے، مجھے ’’چومکھی لڑائی‘‘ کا محاورہ یاد آرہا ہے جس میں انسان کو آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، چاروں طرف سے دشمنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سب
(گزشتہ سے پیوستہ) یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہودیوں کو مدینہ منورہ سے نکالنے میں مسلمانوں نے پہل نہیں کی تھی بلکہ خود یہودیوں نے اپنی فطرت کے مطابق مسلسل بدعہدی کے ذریعہ یہ ماحول پیدا کر
جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کے اس پہلو پر آج کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کافروں کے ساتھ معاشرتی زندگی میں کیا معاملہ کیا ہے اور ان کے
غزہ کی صورتحال، فلسطین کی صورتحال، دن بدن نہیں لمحہ بہ لمحہ گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتی جا رہی ہے اور اسرائیل تمام اخلاقیات، تمام قوانین، تمام معاہدات کو پامال کرتے ہوئے اس درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور
(گزشتہ سے پیو ستہ) یہ فرق ہمارے ہاں ہے۔ اختلاف کی بات کو ہم نے ہمیشہ برداشت کیا ہے، جواب دیا ہے، لیکن توہین کبھی برداشت نہیں کی۔ معروف دانشور ہیں سر ولیم مور لندن سے، حضورؐ کی سیرت پر
(گزشتہ سے پیو ستہ) ہائی کورٹ تک بات گئی اور ہائی کورٹ نے سزائے موت سنا دی، لیکن پوری مغربی لابیاں، وائس آف جرمنی، وائس آف امریکہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، عاصمہ جہانگیر یہ سارے متحرک ہو گئے کہ یہ زیادتی ہے،