نئی دہلی (نیوز ڈیسک)بھارتی ریاست مہاراشٹرا کا ایک چھوٹا سا گاؤں، Dengamal، اپنی ایک حیران کن روایت کی وجہ سے خبروں میں رہتا ہے۔ یہاں کے کئی مرد تین تین شادیاں کرتے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ کوئی خاندانی رسم یا رومانوی کہانی نہیں بلکہ پانی کا بحران ہے۔
گاؤں میں پینے کے پانی کی شدید کمی ہے۔ قریبی کنواں اتنی دور ہے کہ وہاں تک پہنچنے اور واپس آنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ مقامی خواتین روزانہ کئی میل کا سفر طے کر کے کنوئیں سے پانی لاتی ہیں، جس میں اکثر 10 سے 12 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
مسئلہ تب اور بڑھ جاتا ہے جب گھر کی عورت حاملہ ہو جائے، کیونکہ اس حالت میں وہ یہ طویل اور مشکل سفر نہیں کر سکتی۔ ایسے میں شوہر دوسری یا بعض اوقات تیسری شادی کر لیتے ہیں تاکہ نئی بیوی پانی بھرنے کی ذمہ داری سنبھال سکے۔
یہ شادیاں زیادہ تر ان خواتین سے کی جاتی ہیں جو طلاق یافتہ ہوں یا جہیز نہ دینے کی وجہ سے شادی کے روایتی مواقع سے محروم رہ گئی ہوں۔ اس طرح وہ معاشرتی دباؤ سے بچنے کے لیے اس رشتے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔ تاہم، دوسری یا تیسری بیوی کو نہ تو بچے پیدا کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور نہ ہی شوہر کی جائیداد میں کوئی حق دیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندو مذہب کے قانون کے تحت ایک مرد کی ایک سے زائد شادیاں غیر قانونی ہیں، لیکن Dengamal میں یہ روایت پانی کی ضرورت کے باعث اب بھی قائم ہے۔
ایک مقامی خاتون نے بتایا، “جب میں شادی کر کے آئی تو گھر میں پانی کا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ شوہر نے کہا کہ اگر دوسری شادی ہو جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا، میں نے اجازت دے دی۔” لیکن ان کے مطابق، دوسری بیوی آنے کے باوجود صورتحال نہیں بدلی، اور پھر تیسری شادی ہوئی۔ “اب ہم تینوں ایک ساتھ رہتے ہیں، اور شوہر کہتا ہے کہ وہ ہم سب سے برابر محبت کرتا ہے۔”
یہ کہانی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کی کمی کس طرح معاشرتی ڈھانچے اور خاندانی زندگی کو بدل سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:نان فائلرز کے بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس کٹوتی میں اضافہ ،نوٹیفکیشن جاری
