کراچی (نیوزڈیسک) ڈیفنس میں نجی بینک کے لاکر سے 10 کروڑ روپے مالیت کا سامان غائب ہوگیا، مقامی تاجر نے درخشاں تھانے میں واردات کا مقدمہ درج کروادیا۔ کراچی کے ایک مقامی تاجر نے درخشاں تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا، مقدمے میں بینک آپریشن منیجر سمیت دیگر کو نامزد کیاگیا ہے۔
مقدمہ کے متن کے مطابق جولائی 2009 میں بڑے سائز کا لاکر بک کیا تھا، جس میں مختلف اوقات میں 10 کروڑ روپے مالیت کے طلائی زیورات، ڈائیمنڈ سیٹس، دستی گھڑیاں اور غیر ملکی کرنسی رکھی تھی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 19 فروری 2025 کو جب تاجر کی اہلیہ نے لاکر کھولا تو لوہے کا ڈبہ موجود نہیں تھا، لوہے کے ڈبے میں کیش، زیورات اور گھڑیاں تھیں۔فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس حوالے سے بینک آپریشن منیجراور لاکر کسٹوڈین کو آگاہ کیا تو وہ ڈبا ڈھونڈنے لگے، لوہے کا خالی ڈبہ کونے میں دیگر ڈبوں کے ساتھ موجود تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق زیورات کے پاؤچز خالی حالت میں لاکرز کے اوپر چھت کی سیلنگ کے اندر سے ملے، 2 دن بعد دوبارہ بینک گئے تو عملے نے لاکرز سے کچھ جیولری کے خالی باکس، گھڑی کا ایک ڈبہ بھی نکال کر دیا۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شبہ ہے کہ برانچ منیجر نے عملے کے ساتھ مل کر سامان چوری کیا۔
ریٹائرڈ بلدیاتی ملازمین کی پنشن کیلئے 10کروڑ چھیاسی لاکھ 95 ہزار روپےجاری کرنے کی منظوری




