لاہور (زبیرقصوری) پنجاب میں حالیہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد حکومتِ پنجاب اور پاک فوج نے مشترکہ ریلیف اور بحالی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی کا خاص فوکس سکھ برادری کے مقدس مقام گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور ہے، جو 12 سے 15 فٹ تک پانی میں ڈوبا رہا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی براہِ راست نگرانی میں گوردوارہ کے صحن اور اطراف سے پانی نکالنے کا بڑا آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی دنوں میں کشتیاں استعمال کر کے پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا، جب کہ اب صفائی کے عملے نے مٹی اور گاد ہٹانے کا کام تیز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے تین سے چار دنوں میں گوردوارہ اپنی اصل روحانی اور ثقافتی شان کے ساتھ بحال کر دیا جائے گا۔
ادھر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سیالکوٹ، شکرگڑھ، نارووال اور کرتارپور کا دورہ کیا۔ انہیں جاری ریلیف سرگرمیوں اور آئندہ بارشوں کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے سول انتظامیہ اور فوجی جوانوں کی انتھک کوششوں کو سراہا اور کہا کہ عوام کی خدمت کے لیے ہم سب ایک ہیں۔
انہوں نے متاثرہ سکھ برادری سے ملاقات بھی کی اور یقین دہانی کرائی کہ تمام مذہبی مقامات، خاص طور پر گوردوارہ دربار صاحب، کو فوری طور پر بحال کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اقلیتوں اور ان کے مقدس مقامات کا تحفظ کرے، اور پاکستان اس فرض کو ہر صورت نبھائے گا۔
سکھ برادری نے آرمی چیف اور انتظامیہ کا بھرپور خیر مقدم کیا اور ریلیف آپریشن پر گہری تشکر کا اظہار کیا۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری، حکومت نے بڑے منصوبوں کا اعلان کردیا


