اسلام آباد (اے بی این نیوز) رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروّت نے کہا کہ بانیِ تحریکِ انصاف عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور علی امین کا استعفیٰ پہلے ہی گورنر تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کی منظوری سے متعلق قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور سہیل آفریدی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔
اے بی این کے پروگرام “ڈیبیٹ ایٹ 8” میں گفتگو کرتے ہوئےشیر افضل مروّت نےکہا کہ پیر کو خیبرپختونخوا اسمبلی کا سیشن بلایا گیا ہے اور صوبائی اسمبلی کے مجموعی اراکین کی تعداد 145 ہے جس میں اس بار تحریک انصاف کے پاس 93 نشستیں ہیں جبکہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر 52 نشستیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لیے 20 سے 21 ارکان کو خرید کر یا راغب کر کے اکٹھا کرنا آسان کام نہیں ہے البتہ تاریخ نے دکھایا ہے کہ سیاسی ٹرانزیکشنز ممکن ہیں۔ مروّت کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور مایوسی نے بعض حلقوں میں کمزوریاں پیدا کی ہیں جو شکوک و شبہات کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بعض اوقات داخلی اور بیرونی قوتیں ووٹوں کے حصول کے لیے مداخلت کرتی ہیں اور پی ٹی آئی کے بعض ارکان بھی اس قسم کے دباؤ سے مستثنیٰ نہیں۔ شیر افضل نے واضح کیا کہ تحریکِ انصاف سہیل آفریدی کی حمایت کرے گی اور پارٹی انہیں “راستہ فراہم کرنے” میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے تو ان کی نئی کابینہ بھی سامنے آئے گی اور صوبائی امور کی سمت میں تبدیلیاں متوقع ہوں گی۔
شیر افضل مروّت نے صوبے میں بڑھتی دہشت گردی اور امن و امان کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اضلاع میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور ان کے خلاف آپریشنز بھی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کا امن اولین ترجیح ہونی چاہیے اور معدنی وسائل اور دیگر اہم اثاثوں کے تحفظ کے لیے مستحکم حکمرانی ناگزیر ہے۔
پروگرام میں شامل اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ خان نے گنڈا پور کے دورِ حکمرانی میں کرپشن کے الزامات سخت انداز میں دہرائے اور کہا کہ صوبے میں پوسٹنگز و تبادلے بھی رشوت کے ذریعے کیے جاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گورننس کی صورتحال تشویشناک ہے اور پی ٹی آئی کے اندر چار سے پانچ مختلف گروپ بن چکے ہیں جو پارٹی کی یکجہتی کے خلاف ہیں۔
شیر افضل مروّت نے 26ویں آئینی ترمیم اور ماضی کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ سیاسی تاریخ میں بوقتِ ضرورت ارکان کی خریدوفروخت کی مثالیں موجود ہیں، مگر موجودہ صورتحال میں وہ بعض حلقوں کو پارٹی وفاداری دکھانے پر بھی خراجِ تحسین پیش کرتے دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے کارکن اب بھی پارٹی کے ساتھ ہیں اور “ہارڈ کور” کارکن پارٹی کے اندر مضبوطی سے موجود ہیں، اس لیے عوامی سطح پر پی ٹی آئی کی مقبولیت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
آخر میں شیر افضل نے کہا کہ اگر سیاسی رقابت جمہوری اور قانونی راستوں سے حل نہ ہوئی تو ملک کے مفاد میں مسائل سنگین ہو سکتے ہیں، اس لئے تمام فریقوں کو قانون کی حکمرانی اور جمہوری اصولوں کا احترام کرنا چاہیے۔
مزیدپڑھیں:سام سنگ کا بجٹ فون متعارف،قیمت کتنی؟
