Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مولانا فضل الرحمان نے نیتن یاہو کےکیخلاف بڑا بیان دیدیا

بھکر (ویب ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور انہیں کمزور کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، تاہم ہم اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور دینی اداروں کا ہر صورت دفاع کریں گے۔

بھکر میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدارس امت مسلمہ کی نظریاتی بنیادیں ہیں جنہیں ختم کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تقاضوں کو بھی پورا کیا جائے، لیکن دینی شناخت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

فلسطین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطینیوں کا مطالبہ ان کا بنیادی حق ہے، وہ اپنا آزاد وطن چاہتے ہیں، اور اسلامی دنیا کو اس مطالبے کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنا دراصل فلسطینی جدوجہد کی نفی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بلا کر پریس کانفرنس کرتے ہیں، جبکہ عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دے کر ان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ “اگر صدام حسین پر مقدمہ چل سکتا ہے تو نیتن یاہو کیوں قانون سے بالاتر ہے؟” مولانا نے سوال اٹھایا۔

مولانا فضل الرحمان نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب 70 ہزار سے زائد فلسطینی بچے، خواتین، مرد اور بزرگ شہید ہو چکے ہیں تو عالمی ادارے اور انسانی حقوق کے علمبردار کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب تک حماس جیسے فریقین کو شامل کیے بغیر فیصلے کیے جائیں گے، وہ یکطرفہ اور ناقابل قبول ہوں گے۔

آخر میں انہوں نے زور دیا کہ امت مسلمہ پر فتنوں کو روکنے کی اجتماعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، صرف علماء کرام پر یہ بوجھ ڈالنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا: “ہم جو اپنے بچوں کے لیے چاہتے ہیں، وہی سوچ ہمیں پوری قوم کے بچوں کے لیے بھی رکھنی ہوگی۔”

نے عزم ظاہر کیا کہ وہ دینی اقدار، مدارس اور مظلوم مسلمانوں کے حقوق کی جنگ ہر محاذ پر لڑتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں : بھارت کی تجارتی ہٹ دھری ،،،،،امریکی صدر نے بڑی دھمکی دیدی

یہ بھی پڑھیں