Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

ہیومن رائٹس واچ کے طالبان مظالم بارے ہوشربا انکشافات

واشنگٹن(ویب ڈیسک) ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان کے دورِ حکومت میں آزادیِ اظہارِ رائے بری طرح متاثر ہوئی ہے

، جب کہ صحافیوں پر ظلم، تشدد اور جبری پابندیاں معمول بن چکی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں میڈیا کی آزادی تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ معمولی تنقید پر صحافیوں کو گرفتار، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کئی افراد جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ طالبان نے ڈراموں، موسیقی اور خواتین کی آواز کو میڈیا سے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق خواتین صحافیوں پر امتیازی پابندیاں عائد کر کے انہیں میڈیا سے باہر دھکیلا جا رہا ہے۔

مرد صحافیوں کی تعداد چار ہزار سے کم ہو کر دو ہزار جبکہ خواتین صحافیوں کی تعداد 1400 سے گھٹ کر صرف 600 رہ گئی ہے۔طالبان انٹیلی جنس ادارہ اور وزارتِ امر بالمعروف میڈیا دفاتر پر چھاپے مار کر مواد کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغان میڈیا کو ہدایت دی گئی ہے کہ عوامی شکایات یا حکومتی مسائل کی رپورٹنگ “ریاست مخالف پروپیگنڈا” سمجھی جائے گی۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ صحافیوں کو رہائی سے قبل تحریری حلف نامہ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ صحافت نہیں کریں گے۔ ان پابندیوں کے باعث افغانستان کے 60 فیصد میڈیا ادارے بند ہو چکے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں پر تشدد، سینسر شپ اور خواتین کے خلاف امتیازی پالیسیوں کا فوری خاتمہ کریں۔

اقوامِ متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی طالبان حکومت سے آزادیِ صحافت کی بحالی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان کی آمرانہ پالیسیوں کے باعث نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں