راولپنڈی (اوصاف نیوز)نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کور کمانڈر پشاور مجھے مبارکباد دینے آئے تھے اور یہ کوئی سرکاری ملاقات نہیں تھی جب کہ ہمارا موقف وہی ہے، جو ہم اندر کہتے ہیں باہر بھی کہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی اور وہ ملاقات کیے بغیر ہی روانہ ہوگئے۔
کور کمانڈر وزیراعلی سیکرٹریٹ مبارک باد دینے آئے تھے ان سے کوئی آفیشل گفتگو نہیں ہوئی۔ ہمارا موقف وہی ہے جو پاکستان تحریک انصاف کا، عمران خان کا موقف ہے۔ میں ایک صوبے کا چیف ایگزیٹو ہوں میرے آفس میں چیف سیکرٹری ہو کورکمانڈر یا دیگر سیکیورٹی اداروں کے افسران آئیں گے صوبائی معاملات… pic.twitter.com/nL66gVFECW
— PTI (@PTIofficial) October 28, 2025
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران ان سے کور کمانڈر پشاور سے ملاقات کے حوالے سے سوال کیا گیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں مبارکباد دینے آیا ہوں، یہ کوئی سرکاری ملاقات نہیں تھی اور اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو غیر رسمی تھی، جب کہ ہمارا موقف وہی ہے، جو ہم اندر کہتے ہیں، باہر بھی کہتے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور جس طرح انسپکٹر جنرل آف پولیس اور چیف سیکرٹری ان کے دفتر آتے ہیں اسی طرح کور کمانڈر بھی آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران بھی ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم ان سے صوبے کے معاملات پر بات کرتے ہیں تاہم ہماری حکومت کا موقف پی ٹی آئی اور اس کے قید بانی عمران خان کے موقف کے عین مطابق ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کے اہل خانہ اور پی ٹی آئی متعدد بار جیل حکام پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ ہمیں قائد سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔
علی امین گنڈا پور کو رواں ماہ کے شروع میں عمران خان کی ہدایت پر وزارت اعلیٰ سے ہٹا دیا گیا تھا اور پی ٹی آئی نے ان کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا تھا۔
اپنے انتخاب سے تین روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں پریس کانفرنس کی۔
اس موقع پر ان سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ حکومت کے ماضی کے مذاکرات اور خیبر پختونخوا کی قیادت میں تبدیلی کے بارے میں پوچھا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیا تھا کہ آج کون کہہ رہا ہے کہ ان (دہشت گردوں) سے بات کی جائے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے، ان سے بات کرنے اور آپریشن روکنے کے لیے یہ ساری مہم کون چلا رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ کون کہہ رہا ہے کہ وہ ایسی صوبائی حکومت کو قبول نہیں کریں گے جو آپریشن کے خلاف کھڑی نہ ہو، یہ سب کے سامنے ہے کہ آج کون سا شخص اور کس سیاسی نظریے سے دہشت گردوں سے بات کرنے کی بات کر رہا ہے۔
جب ان سے خیبرپختونخوا میں قیادت کی تبدیلی اور اس کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں پوچھا گیا تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کیا آپ کا مطلب ہے کہ ایسی قیادت لائی جارہی ہے جو ریاست مخالف ہو، یہ ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ریاست بہت مضبوط ہے، اور میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ ان تمام سیاسی مسائل سے قطع نظر دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یہ جنگ ہر وقت اور ہر محاذ پر جاری ہے۔
مزید پڑھیں:محمد رضوان کا بڑا فیصلہ! سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط سے انکار، پی سی بی کو شرائط تھما دیں
