اسلام آباد( اوصاف نیوز) گزشتہ روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 4 فیصد کمی کے ساتھ 60 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، تاہم بعد میں قدرے بحال ہو کر 62 ڈالر فی بیرل پر تجارت کی۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 2.15 ڈالر کمی کے ساتھ 63.01 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 2.07 ڈالر کمی سے 58.97 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ یہ کمی اس وقت دیکھی گئی جب پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم نے پیش گوئی کی تھی کہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی 2026 تک طلب کے برابر ہو گی۔
اوپیک کے مطابق یہ تبدیلی اس کی سابقہ پیش گوئی سے مختلف ہے جس میں عالمی منڈی میں سپلائی میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ نیا تخمینہ اوپیک ممالک کی بڑھتی ہوئی پیداوار کو ظاہر کرتا ہے جس سے مارکیٹ میں توازن پیدا ہو رہا ہے۔ اس توازن کی وجہ سے مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا اور قیمتیں نیچے آگئیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ تیل اور گیس کی طلب 2050 تک بڑھ سکتی ہے۔
دریں اثنا، تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں قیمتوں کے غیر مستحکم اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے پیداوار کو عارضی طور پر روکنے یا برآمدات کو کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں یہ کمی جاری رہی تو عالمی معیشت کو عارضی ریلیف مل سکتا ہے تاہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کی آمدنی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان میں بھی 16 نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے تاہم حتمی فیصلہ اوگرا کی تیار کردہ سمری کو دیکھ کر وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں کیا جائے گا جس کے بعد نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم انڈسٹری نے 16 نومبر سے ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 60 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی ہے جب کہ پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 96 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 8 روپے 82 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق 16 نومبر سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 263 روپے 49 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 288 روپے 4 پیسے فی لیٹر تک بڑھنے کا امکان ہے۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی ہفتے کو کی جائے گی، اوگرا کی جانب سے ہفتے کو سمری وفاقی حکومت کو ارسال کی جائے گی۔ وزارت خزانہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔
مزید پڑھیں:نادرا شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے جلد خود کار نظام متعارف کرائے گا


