اسلام آباد (اے بی این نیوز) اسپین ویزہ اسکینڈل میں مزید سنگین حقائق سامنے آنے لگے ہیں، جبکہ اسپین سفارتخانے اور متعلقہ اداروں کی خاموشی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی تحقیقات اپنے اختتام کے قریب پہنچ گئی ہیں، تاہم ابھی تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
متعدد شہریوں نے شکایت کی ہے کہ سفارتخانے سے ٹیلی فون اور ای میل کے ذریعے متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود کوئی جواب فراہم نہیں کیا جا رہا۔ اسی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام آباد میں سرگرم ایجنٹس کا وسیع نیٹ ورک سامنے آ گیا ہے، جو کنسلٹنسی کے نام پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے بٹور رہا ہے، جبکہ متعلقہ تحقیقاتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
اسپین ویزہ سینٹر اور BLS کا تعلق ! نام بدلا، نظام وہی
ذرائع کے مطابق اسلام آباد اسپین ویزہ سینٹر بھارتی کمپنی BLS کے ساتھ منسلک بتایا جا رہا ہے۔ اگرچہ کمپنی کا نام تبدیل کر کے “انتِیانا (Antiana)” رکھا گیا ہے، لیکن ویزہ سینٹر کا نظام اور زیادہ تر عملہ وہی برقرار ہے۔ ویب سائٹ پر بھی نئے نام کا اندراج کیا جا چکا ہے۔
اپائنٹمنٹ کا کاروبار ! لاکھوں روپے میں وقت فروخت ہونے لگا
ویزہ اپائنٹمنٹ کے بحران نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ متعدد کنسلٹنسی دفاتر کھلے عام اپائنٹمنٹ بیچنے کے الزام میں سامنے آئے ہیں، جہاں ایک وقت کے حصول کے لیے لاکھوں روپے تک طلب کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایجنٹس سرگرم ہو چکے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز—فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک—پر ’جعلی ویزہ ایکسپرٹس‘ کی بھرمار دیکھنے میں آ رہی ہے جو شہریوں کو دھوکہ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
دفتر خارجہ کا موقف
دفتر خارجہ نے معاملے کو سفارتخانے کا داخلی انتظامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے مزید معلومات اسپین سفارتخانہ ہی فراہم کر سکتا ہے۔
شہری شدید پریشان
بڑھتے ہوئے فراڈ، اپائنٹمنٹ کے بحران، اور سفارتخانے کی مسلسل خاموشی نے شہریوں کو شدید پریشان کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر متعلقہ اداروں سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کی حسان نیازی کی درخواست پر سماعت سے معذرت

