اسلام آباد(اوصاف نیوز) پنجاب کے سول جج سید جہانزیب بخاری نے 16 سالہ خدمات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے استعفے کے ساتھ 15 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ منسلک کی جس میں انہوں نے سابق چیف جسٹسز اور اعلیٰ عدلیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں کرپشن، سیاسی مداخلت، نظریۂ ضرورت کے تحت فوجی بغاوتوں کو جواز فراہم کرنا، اور ماتحت عدلیہ کی تذلیل شامل ہے۔
جج بخاری نے اپنا استعفیٰ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کو ارسال کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی حمایت میں استعفیٰ دے رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ حالیہ استعفوں کے رجحان نے بھی انہیں اپنے عہدے سے الگ ہونے پر مجبور کیا۔اپنے خط میں انہوں نے تین سابق چیف جسٹس صاحبان کے نام لیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان ادوار میں عدلیہ نے مارشل لاز کو قانونی تحفظ فراہم کیا، سیاسی انجینئرنگ میں کردار ادا کیا، پسند و ناپسند پر فیصلے کیے، اور بینچ تشکیل کو متنازع بنایا۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے اندرونی تنازعات کو ہمیشہ خاموشی یا مراعات کے ذریعے دبایا گیا۔ماتحت عدلیہ کے حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلعی جج شدید دباؤ، عدم تحفظ اور تذلیل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ججوں کو روزانہ سینکڑوں مقدمات نمٹانے پر مجبور کیا جاتا ہے جبکہ وکلا اور سائلین کے رویے کی وجہ سے ٹرائل ججز کے اختیار کو کمزور کیا جاتا ہے۔
اپنے ذاتی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اہلیہ کے دورانِ حمل شدید برین ہیمرج اور نومولود بچے کی وفات کے باوجود انہیں رخصت نہ دی گئی، جبکہ والد کے ٹرمینل کینسر کے دوران بھی چھٹی کی درخواست کو نظر انداز کیا گیا اور ان کے فون تک کا جواب نہ دیا گیا۔جج بخاری نے اعلان کیا کہ وہ ان ججوں کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار ہیں جن پر انہوں نے الزامات عائد کیے ہیں۔
انہوں نے پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ عدالتی اصلاحات کے لیے مؤثر کردار ادا کرے اور ججز کی تقرری کو سروس ہائیرارکی سے مشروط کرے تاکہ عدالتی اشرافیہ کا خاتمہ ہو۔اس معاملے پر عدلیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر جج کو رخصت سے متعلق شکایات تھیں تو انہیں عدالت میں درخواست دائر کرنی چاہیے تھی۔
تاہم، جج جہانزیب بخاری کا مؤقف ہے کہ ان کی درخواستوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا اور انہیں سٹاف کے ذریعے بھی جواب نہیں دیا گیا۔آخر میں انہوں نے لکھا:“پاکستان اور اس کی جمہوریت ہمیشہ زندہ باد۔
مزید پڑھیں:ایپل نے مودی سرکار کا حکم ماننے سے انکار کر دیا
