Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پنجاب میں ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال، مسافروں کو مشکلات کا سامنا

(اوصاف نیوز) ٹرانسپورٹرز نے پنجاب بھر میں بھاری جرمانوں کے خلاف آج سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں لاہور سمیت مختلف شہروں میں بس اڈے بند ہیں۔

شیرا کوٹ اور بند روڈ پر متعدد بس اڈے اور بکنگ آفس بند ہونے سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ کچھ بس اڈے جزوی طور پر کھلے ہیں، جس سے اشیاء کی سپلائی متاثر ہونے اور مارکیٹوں میں دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان ٹرانسپورٹ متحدہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے ٹریفک آرڈیننس 2025ء کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے ذریعے ٹرانسپورٹرز پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، جو کہ ظلم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک آرڈیننس واپس نہیں لیا جاتا، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ بند رہے گی، اور منی مزدا، لوڈرز، رکشے بھی ہڑتال میں شامل ہوں گے۔

ٹرانسپورٹرز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈرائیورز پر مقدمات درج کر کے انہیں مجرم بنایا جا رہا ہے، اور پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس کی فیس 12 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جو کہ پورے ملک میں 1200 روپے ہے۔ پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہو چکا ہے، جبکہ مذاکرات کا اگلا دور آج دوپہر 2 بجے ہوگا۔

آئی جی پنجاب کا ردعمل
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے حوالے سے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہذب ممالک میں ہڑتالیں نہیں، بلکہ قانون کی پاسداری کی جاتی ہے۔ بغیر لائسنس ڈرائیونگ کو موت اور حادثات کی دعوت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکول بچوں کی حفاظت پر کسی قسم کی بلیک میلنگ نہیں کی جائے گی، اور قانون پر عمل درآمد کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ میں بیٹھے مجرم کو ملکی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، وزیر دفاع

یہ بھی پڑھیں