کراچی (اوصاف نیوز) معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے اپنے خلاف جاری تنازع اور حالیہ واقعات پر خاموشی توڑتے ہوئے تمام حقائق اور شواہد کے ساتھ لائیو آنے کا اعلان کر دیا ہے۔
رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ’’میری کہانی، میری زبانی‘‘ کے عنوان سے براہِ راست نشریات میں عوام کے سامنے وہ تمام ثبوت پیش کریں گے جو حالیہ الزامات، عدالتی کارروائیوں اور مبینہ تشدد کے واقعات سے متعلق ہیں۔
رجب بٹ کے مطابق ان کے خلاف پھیلائی جانے والی معلومات یکطرفہ ہیں جبکہ لائیو سیشن میں وہ نہ صرف اپنا مؤقف بیان کریں گے بلکہ قانونی اور متعدد حقائق بھی عوام کے سامنے رکھیں گے۔رجب بٹ نے آج شام 07 بج کر 07 منٹ پر لائیو آنےکا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد اور وکلا کے خلاف مقدمات کے اندراج کا تنازع مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ پنجاب بار کونسل کی جانب سے رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کا وکالت لائسنس معطل کیے جانے کے بعد فریقین کے درمیان قانونی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
اس معاملے پر ریاض سولنگی ایڈووکیٹ اور فتح چانڈیو ایڈووکیٹ کے خلاف سندھ بار کونسل میں دو الگ الگ درخواستیں جمع کرا دی گئی ہیں، جو میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔
درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رجب بٹ نے رضاکارانہ طور پر عدالت میں پیش ہو کر عبوری ضمانت حاصل کی، تاہم 29 دسمبر کو سٹی کورٹ کراچی پہنچنے پر شکایت کنندہ ریاض سولنگی ایڈووکیٹ، فتح چانڈیو ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھی وکلا نے مبینہ طور پر منظم انداز میں رجب بٹ پر تشدد کیا۔
درخواست کے مطابق تشدد کے دوران رجب بٹ سے ان کا بیگ چھین لیا گیا، جو بعد میں واپس تو کر دیا گیا، تاہم اس میں موجود تین لاکھ روپے نقد رقم غائب تھی۔ مزید الزام لگایا گیا ہے کہ رجب بٹ کے ساتھ ساتھ وکلا کو بھی ہراساں کیا گیا اور انہیں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی کوشش کی گئی۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی احاطے میں ہنگامہ آرائی کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار کے دفتر لے جایا گیا، جہاں کسی عہدیدار کی موجودگی کے بغیر دوبارہ تشدد کیا گیا۔
درخواست گزاروں کے مطابق تشدد میں ملوث وکلا کے اقدامات پیشہ ورانہ بدانتظامی اور عدالتی کارروائی میں رکاوٹ کے زمرے میں آتے ہیں، جو لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل ایکٹ اور بار کونسل رولز کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاض سولنگی ایڈووکیٹ، فتح چانڈیو ایڈووکیٹ اور دیگر ملوث افراد کے خلاف فوری تادیبی کارروائی شروع کی جائے، حتمی فیصلے تک ان کے وکالت لائسنس معطل کیے جائیں اور متعلقہ بار ایسوسی ایشن سے مکمل ریکارڈ اور وضاحت طلب کی جائے۔
درخواست میں اس تشویش کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ عدالتی احاطوں میں سائلین اور زیرِ حراست ملزمان کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عدلیہ کے تقدس اور سائل کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق اس واقعے نے وکالت کے پیشے کو شدید عوامی تنقید کی زد میں ڈال دیا ہے، جبکہ سائل پر مبینہ تشدد کے باوجود سندھ بار کونسل کی خاموشی کو بھی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ رجب بٹ کے لائیو آنے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے اور صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ ان کے لائیو سیشن کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:سی ڈی اے کا بڑا اقدام، اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم کی تیاری


