اسلام آباد (اوصاف نیوز) واٹس ایپ صارفین کو “گھوسٹ پیئرنگ” نامی ایک نئے خطرناک سائبر فراڈ کے بارے میں خبردار کیا جا رہا ہے، جس میں ہیکرز سیکیورٹی سسٹم کو توڑے بغیر خاموشی سے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو ہائی جیک کر سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ہیکرز واٹس ایپ کے کنیکٹڈ ڈیوائسز کے فیچر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صارف کے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز تک مکمل رسائی حاصل کرتے ہیں، جس سے اکاؤنٹ کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لینا ممکن ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیکرز عام طور پر صارف کو ایک جعلی لنک بھیجتے ہیں جو کسی معروف ویب سائٹ کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اگر صارف اس لنک پر جاتا ہے اور اپنا موبائل نمبر اور تصدیقی کوڈ داخل کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو ہیکر کی ڈیوائس سے لنک کرتا ہے، اور ہیکر اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے۔ اس دوران، صارف کو عام طور پر کوئی واضح اطلاع موصول نہیں ہوتی۔
اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد خطرات:
. صارف کے نجی پیغامات پڑھ سکتے ہیں۔
. تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
. صارف کی شناخت کے ساتھ پیغامات بھیج سکتے ہیں۔
. اس سکیم کو پیغام رسانی کے ذریعے صارف کے رابطوں تک پھیلا سکتا ہے۔
واٹس ایپ اکاؤنٹ کے لیے احتیاطی تدابیرجانئے:
1. منسلک آلات کو باقاعدگی سے چیک کریں: واٹس ایپ کی ترتیبات پر جائیں اور منسلک آلات کو چیک کریں اور نامعلوم آلات کو فوری طور پر ہٹا دیں۔
2. دو قدمی تصدیق کو فعال کریں: غیر مجاز رسائی کو مشکل بنانے کے لیے WhatsApp کی ترتیبات پر جائیں اور چھ ہندسوں کے شناختی کوڈ کو فعال کریں۔
3. مشکوک لنکس اور ویب سائٹس سے ہوشیار رہیں: کسی بھی نامعلوم لنک یا ویب سائٹ پر اپنا نمبر یا کوڈ درج نہ کریں، چاہے یہ پیغام آپ کے کسی جاننے والے کی طرف سے آیا ہو۔ تصدیق کے لیے کال کریں یا رابطہ کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے، کسی بھی تصدیقی کوڈ یا کوڈ کیو آر اسکین کی درخواست سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اس طرح کے سائبر حملوں اور دھوکہ دہی سے محفوظ رہنے کے لیے واٹس ایپ سیکیورٹی فیچر جیسے ٹو سٹیپ ویری فکیشن اور کنیکٹڈ ڈیوائسز کی نگرانی کا باقاعدگی سے استعمال کریں۔
مزید پڑھیں:خوشخبری، 90 ہزار ماہانہ فیلوشپ کا اعلان،اپلائی کا طریقہ کار جانیے




