اسلام آباد (اے بی این نیوز)پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے کہا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے نہ مناسب کیمیکلز موجود تھے اور نہ ہی حفاظتی انتظامات، جس کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پلازہ مالکان کی بروقت گرفتاری کیوں عمل میں نہیں لائی گئی، جس پر عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی نظام کسی بڑے حادثے سے نمٹنے کے قابل نہیں رہا، جبکہ پورے پاکستان میں بلڈنگ سیفٹی کا نظام ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی تو کی گئی مگر بلدیاتی اداروں کو نہ عملی اختیارات مل سکے اور نہ وسائل فراہم کیے گئے۔
فیصل چودھری کے مطابق پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود مؤثر بلدیاتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) تینوں اپنے ادوار میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ناکام رہیں، جبکہ آمریت کے ادوار میں بلدیاتی نظام فعال اور جمہوری ادوار میں کمزور رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات ہی سیاسی مسائل کا واحد حل ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر بھی اسٹیبلشمنٹ سے بات کر سکتی ہیں، جبکہ پارلیمنٹ کو عوامی پالیسی سازی کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب ،مسلم لیگ (ن) کی رہنما شمائلہ رانا نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ واضح طور پر انسانی غفلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ مالکان اور تعمیر کرنے والوں پر سنگین سوالات اٹھ چکے ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں بلڈنگ بائی لاز کی کھلی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلازے میں گنجائش سے زائد دکانیں قائم تھیں اور حفاظتی انتظامات کا مکمل فقدان تھا، جبکہ نگرانی کرنے والا کوئی مؤثر ادارہ موجود نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں کسی حکومت کا راستہ روکنے کا کوئی اقدام نہیں کیا گیا، اور اسمبلی یا سینیٹ کے اراکین کا کام مقامی سطح کے مسائل حل کرنا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق مقامی مسائل کے حل کی اصل ذمہ داری مقامی نمائندوں پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم متعدد بار مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، تاہم اس کے لیے سیاسی شعور اور مثبت رویہ اپنانا ضروری ہے۔
تیسری جانب ، پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ عمارت میں اصل منظوری 1021 دکانوں کی تھی، تاہم نوٹسز کے باوجود ٹیکس ادائیگی اور حفاظتی تقاضوں پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور انسانی غفلت کو ایک جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا، اور سانحہ گل پلازہ میں انتظامی ناکامی واضح طور پر سامنے آئی ہے۔
ان کے مطابق 200 سے زائد میٹنگز میں حفاظتی ہدایات دی گئیں اور متاثرہ دکانداروں کو متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے، مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ بلڈرز کی ملی بھگت سے غیر قانونی عمارتوں کو طویل عرصے تک تحفظ دیا جاتا رہا، جبکہ کراچی کے انفراسٹرکچر اور ٹریفک مسائل کا موازنہ لاہور یا اسلام آباد سے نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں:برطانیہ کی پاکستان کو بڑی پیشکش،خوشخبری جانیے


