اسلام آباد (اوصاف نیوز) آزاد کشمیر کے نئے صدر کے انتخاب پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن آمنے سامنے آگئیں اور صدارتی انتخاب سے پہلے ڈپٹی اسپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کرلیا۔
آزاد کشمیر میں صدر سلطان محمود کی وفات کے بعد نئے صدر کے انتخاب کے حوالے سے اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے باعث سیاسی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان آمنے سامنے آ گئے ہیں اور نئے صدر کے انتخاب میں ڈیڈلاک پیدا ہو گیا ہے۔
حکومت میں شامل بیرسٹر سلطان گروپ کے ارکان نے الگ گروپ بنا لیا ہے، جس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت میں اندرونی اختلافات گہرے ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔پیپلز پارٹی نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری شروع کر دی ہے، تاکہ صدارتی انتخاب سے پہلے اپنی پوزیشن مضبوط کی جا سکے۔
مسلم لیگ ن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے، جس سے پیپلز پارٹی کو عددی اکثریت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی میں جوڑ توڑ اور رابطے تیز ہو گئے ہیں، اور صدر کے لیے کئی امیدواروں نے اپنی لابنگ شروع کر دی ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کے مطابق، موجودہ صدارتی انتخاب میں صدر بھی پیپلز پارٹی سے ہوں گے، جبکہ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد حکومت مسلم لیگ ن کی ہوگی۔
مزید پڑھیں:کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
