اسلام آباد (اوصاف نیوز) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے شمسی توانائی سے صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ سے متعلق نئی بلنگ پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے صارفین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت 40 روپے فی یونٹ بجلی فروخت کر رہی ہے اور صارفین سے اضافی بجلی صرف 8 سے 11 روپے میں خرید رہی ہے جس پر اضافی ٹیکس بھی لگایا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ ختم کرنا حکومت کی ایک اور غلط پالیسی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب بیٹریاں مارکیٹ میں آگئی ہیں جس میں بجلی 5 سے 6 روپے فی یونٹ مہنگی ہے، حکومت کو یہ نقصان ہوگا کہ جو بجلی سولر صارفین کو مل رہی ہے وہ اب نہیں ملے گی۔
مفتاح اسماعیل نے اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سولر صارفین سے کہا ہے کہ وہ ان سے 8 روپے میں بجلی خریدے گی اور پھر ہم اس پر 18 فیصد ٹیکس بھی لگائیں گے جس ریٹ پر آپ ہمیں فی یونٹ فروخت کریں گے اور آپ جو خریدیں گے اس پر سیلز ٹیکس بھی لگے گا۔ یہ فرق صارفین کے لیے مالی طور پر نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔
یاد رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے لیے نرخوں میں کمی کی تھی جب کہ اس فیصلے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ نئے ضوابط کے مطابق پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو پرانے نرخوں پر 25.32 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کریں گے تاہم نئے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو فروخت ہونے والی بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 17 روپے 19 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔
پی ایس ایل 11، نیلامی میں 10 سب سے مہنگے کھلاڑی کون؟ جانیے


