اسلام آباد (اوصاف نیوز) پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کو آئندہ قانون سازی کا حصہ بننے سے روک دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ارکان اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس وقت تک کسی ترمیم یا بل کی منظوری کا حصہ نہ بنیں جب تک صدر آصف علی زرداری وفاقی حکومت کے ساتھ معاملات طے نہیں کر لیتے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری سے چند اہم بلز کا حصہ بننے کی درخواست کی تاہم پیپلز پارٹی کے انکار کے باعث بلز کو گزشتہ روز ترمیمی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں نظر آئے۔ گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں صدر نے کھل کر وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پارٹی کے تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے وزیراعظم سے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے یہی طریقہ اپنانا ہے تو مجھے بھی پیپلز پارٹی کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ پی پی پی کا وفاقی حکومت سے ترامیم، بلوں اور مستقبل کے بجٹ کے اختیارات پر اوور ڈوز کرنے پر اختلاف ہے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سمیت دیگر بھی صدر آصف علی زرداری کے اعتراضات کو مطمئن نہیں کر سکے۔ گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں صدر آصف علی زرداری کا رویہ معمول سے مختلف تھا۔ کل ملاقات میں گرمجوشی نہیں تھی بلکہ غصہ تھا۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت بلوچستان حکومت کے معاملات میں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی مداخلت پر بھی ناخوش نظر آئے۔ صدر کی اجازت اور دستخط کے بغیر آرڈیننس کی منظوری پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا۔
مزید پڑھیں:کیا اے آئی نے واقعی ملائیشین آدمی کو ارب پتی بنا دیا؟


