انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ایک طویل اور خطرناک علاقائی تنازع کی بنیاد رکھ رہی ہے جو کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
اپنے ایک خطاب میں ابراہیم قالن نے کہا کہ موجودہ صورتحال صرف ایک محدود جنگ نہیں ہے بلکہ پورے خطے کو ایک بڑے اور دیرپا بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتائج عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
قیام امن میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مذاکراتی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا واحد موثر طریقہ سفارت کاری ہے۔
ابراہیم قالن نے واضح کیا کہ اگرچہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے ناقابل قبول ہیں لیکن اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ جنگ کس نے شروع کی۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور حالات کو خراب ہونے سے روکیں۔
ترک انٹیلی جنس چیف نے مزید کہا کہ یہ جنگ ترک، کرد، عرب اور فارس اقوام کے درمیان طویل المدتی تقسیم کا باعث بن سکتی ہے جس سے خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا۔ ان کے مطابق ماضی میں ایران کے خلاف لڑی جانے والی محدود جنگیں دراصل موجودہ بڑے تنازعے کی تیاری کا حصہ تھیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو لبنان، شام، فلسطین اور دیگر خطوں میں نئی جغرافیائی اور سیاسی حقیقتیں ابھر سکتی ہیں جب کہ اس تنازع کی قیمت پوری دنیا کو چکانی پڑ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ابراہیم قالن کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے اور اس کے لیے فوری سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی میں اضافہ، یو اے ای میں درجنوں شہری گرفتار
