Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

خفیہ حقائق بے نقاب، امریکی رپورٹ میں نیتن یاہو سے متعلق سنسنی خیز انکشافات

تل ابیب (انٹرنیشنل نیوز) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں جب کہ نئی تحقیقاتی رپورٹ اور مبینہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایک دستاویزی فلم اور ویڈیو منظر عام پر لانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف قانونی مقدمہ مضبوط ہو سکتا ہے اور انہیں جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اسلحہ ڈیلروں سے قیمتی تحائف وصول کیے اور اس کے بدلے میں انہیں کاروباری فوائد فراہم کیے گئے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس تفتیش کے دوران نیتن یاہو نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام تحائف وصول کرنے کا اعتراف کیا۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک مبینہ ویڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں نیتن یاہو کو تفتیشی افسران کو دھمکیاں دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر الزامات ثابت ہو گئے تو نیتن یاہو کو وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے بعد قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ممکنہ طور پر جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو یا ان کے دفتر کی جانب سے ان الزامات پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی سلامتی اور جنگ کی صورتحال سے گزر رہا ہے۔
مزید پڑھیں‌:ایران امریکا تناؤ میں خطرناک اضافہ، ترک انٹیلی جنس چیف کا بڑا انتباہ

یہ بھی پڑھیں