اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کی وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے مجوزہ ملٹی سلیب ٹائم آف یوز (ToU) انڈسٹریل ٹیرف رجیم پر مشاورتی اجلاسوں کی سیریز کامیابی سے مکمل کرلی ہے، جس کا مقصد بجلی کے ٹیرف نظام میں شفافیت، بہتری اور صنعتی شعبے کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق تین اہم مشاورتی اجلاسوں میں ملک بھر سے صنعتی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، کورنگی انڈسٹریل ایریا ایسوسی ایشن اور پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز سمیت دیگر صنعتی و تجارتی ادارے شامل تھے۔
اجلاسوں کے دوران شرکاء نے پاور ڈویژن اور وزیر توانائی کی جانب سے صنعت کو پالیسی سازی میں شامل کرنے کے اقدام کو سراہا اور اسے پاور سیکٹر میں شواہد پر مبنی اصلاحات کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
مشاورتی عمل کے دوران صنعتی نمائندوں نے مختلف اہم امور پر تفصیلی تجاویز پیش کیں، جن میں ٹیرف کے آپٹ اِن نظام، اس کی مدت، فکسڈ چارجز سے متعلق فریم ورک، زیادہ سے زیادہ ڈیمانڈ انڈیکیٹر (MDI) کے اطلاق، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (QTA) اور فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ جیسے نکات شامل تھے۔
خصوصی طور پر اسٹیل سیکٹر سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے زیادہ MDI اور کم استعمال کے عوامل پر تحفظات کا اظہار کیا اور اس حوالے سے شعبہ وار پالیسی یا مناسب ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاور ڈویژن نے تمام تجاویز کو مثبت انداز میں لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حتمی ٹیرف پالیسی کی تیاری میں اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو شامل کیا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ مجوزہ ٹیرف مکمل طور پر اختیاری ہوگا اور صنعتی صارفین اپنی ضروریات کے مطابق اسے اپنانے یا مسترد کرنے کا اختیار رکھیں گے۔
اجلاسوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ToU نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے جدید اسمارٹ میٹرنگ انفراسٹرکچر ناگزیر ہے، جو بجلی کے استعمال کے وقت کے مطابق قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
پاور ڈویژن کے مطابق ان مشاورتی اجلاسوں کی کامیاب تکمیل حکومت اور صنعتی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد صنعتی مسابقت میں اضافہ، توانائی کے بہتر استعمال اور پاور سیکٹر کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔
