لاہور (نیوز ڈیسک) سیشن عدالت نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سے متعلق ٹوئٹ کیا تھا، میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کی شکایت صوبائی محتسب کو دائر کی تھی۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق علی ظفر نے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ایک ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا۔ میشا شفیع کے مطابق ہرجانے کا دعویٰ صوبائی محتسب پر درخواست واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا۔
عدالت کے مطابق میشا شفیع کا جنسی ہراساں کرنے کا الزام درست نہیں، میشا شفیع علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کریں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ میشا شفیع مستقبل میں جنسی ہراسانی کے حوالے سے کسی پلیٹ فارم پر بات نہیں کریں گی۔
مزید پڑھیں:پونم پانڈے شادی سے پہلے ہی حاملہ ہوگئیں؟ تصاویر نے صارفین کو چونکا دیا
