اسلام آباد( اوصاف نیوز)وفاقی حکومت نے سرکاری دفاتر میں پیشہ ورانہ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے نئے ڈسپلن قواعد متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت غیر ضروری گفتگو، خاص طور پر خواتین ساتھیوں کے ساتھ غیر متعلق بات چیت پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
کابینہ سیکریٹریٹ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دفتری اوقات میں مکمل طور پر اپنے فرائض پر توجہ دیں اور کسی بھی قسم کی غیر متعلقہ یا غیر ضروری گفتگو سے گریز کریں۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ خواتین ساتھیوں کے ساتھ غیر ضروری گفتگو کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس پر متعلقہ ملازم کے خلاف فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسی خلاف ورزی کی صورت میں ایک دن کی تنخواہ کی کٹوتی سمیت دیگر سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد دفاتر میں پیشہ ورانہ، باوقار اور محفوظ ماحول کو فروغ دینا ہے تاکہ تمام ملازمین بلا تفریق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔
وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نئے قواعد پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کی جائے گی۔
یہ نئے قواعد جاری ہونے کے بعد ملازمین اور عوامی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جہاں کچھ افراد اسے مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض حلقے اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:ٹول ٹیکس میں اضافہ کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا
