واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکا میں ہونے والے مذاکرات ختم ہو گئے جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی شرکت کی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر ختم ہوگئے ہیں جس میں وہاں تعینات دونوں ممالک کے سفیر بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کے اس دور کے دوران سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اسرائیلی سفیر یشیئل لیٹر اور لبنانی سفیر ندا حمدا معاوی بھی موجود تھے۔
محکمہ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مذاکرات بند دروازوں کے پیچھے ہوئے تاہم مذاکرات سے قبل دونوں جماعتوں کے سفیروں نے کچھ دیر میڈیا سے گفتگو بھی کی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکرات سے متعلق تفصیلات جلد میڈیا کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کے پہلے دن اسرائیل نے لبنان پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا۔
ان حملوں میں اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے رہنماؤں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس میں ہلاکتوں کی تعداد 250 سے تجاوز کر گئی ہے۔
جس پر ایران اور پاکستان نے کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ فرانس سمیت کئی یورپی ممالک بھی چاہتے ہیں کہ جنگ بندی کا دائرہ لبنان تک بڑھایا جائے۔
دریں اثنا، برطانیہ سمیت 17 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور لبنان پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا میں ہونے والے مذاکرات کے قیمتی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ براہ راست مذاکرات نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان بلکہ پورے خطے میں دیرپا امن و سلامتی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
تاہم امریکا اور اسرائیل کی طرف سے تاثر یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک جنگ بندی کا فیصلہ صرف یقین دہانیوں اور لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر کریں گے۔
مزید پڑھیں:کیا پیٹرول بھی سستا ہوگا؟ خام تیل پر بڑی اپڈیٹ
