اسلام آباد ( اوصاف نیوز)ورلڈ بینک نے اپنی عالمی ترقیاتی درجہ بندی میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے پاکستان کو جنوبی ایشیاء کے ریجنل گروپ سے نکال کر مالی سال 2026 کے لیے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کیٹیگری میں شامل کر دیا ہے۔
غیر ملکی ویب سائٹ’’ تھرسڈے ٹائمز ‘‘نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ یہ تبدیلی کسی باقاعدہ اعلان یا پریس کانفرنس کے ذریعے سامنے نہیں آئی بلکہ ادارے کے ڈیٹا بینک میٹا ڈیٹا گلاسری میں نظر آئی، جہاں پاکستان اور افغانستان کو اب MENA خطے کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کو بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے ساتھ جنوبی ایشیاء میں شمار کیا جاتا تھا۔
ابتدائی طور پر یہ تبدیلی تکنیکی نوعیت کی ہے، کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے وقتاً فوقتاً اپنی علاقائی درجہ بندیوں کو قرضہ جاتی پالیسیوں، معاشی ماڈلز اور انتظامی ڈھانچوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق علاقائی درجہ بندیاں صرف انتظامی نہیں ہوتیں بلکہ یہ ممالک کی عالمی سطح پر شناخت اور اقتصادی تشخیص پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ تبدیلی ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک اپنی خارجہ پالیسی میں مشرق کی بجائے مغرب کی طرف اقتصادی اور سٹریٹجک تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر پاکستان کے اہم مالی و سفارتی شراکت دار بن چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اب خود کو صرف جنوبی ایشیائی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ’’لنک اسٹیٹ‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے جو وسطی ایشیاء، خلیج اور بحیرۂ عرب کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
لیکن یہ نئی درجہ بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرونی ادارے اب پاکستان کو ایک وسیع تر زاویئے سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کی معاشی وابستگیاں، مزدوروں کی ترسیل، سیکیورٹی کی اہمیت اور سفارتی نیٹ ورکس اب واضح طور پر مشرق کیساتھ ساتھ مغرب کی طرف بھی پھیل چکے ہیں۔
یہ وقت بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے خلیج اور وسیع مشرق وسطیٰ میں جاری اتار چڑھاؤ کے دوران ایک بڑے علاقائی کردار کی کوشش کی ہے، اور خود کو ایک ایسے “پل” (bridge state) کے طور پر پیش کیا ہے جو مختلف بلاکس کے درمیان بات چیت کر سکتا ہے۔ یہ پوزیشننگ خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ مضبوط تعلقات اور پاکستان کو محض ایک بحران زدہ معیشت کے بجائے ایک سرمایہ کاری اور لاجسٹکس حب کے طور پر پیش کرنے کی نئی کوششوں کے ساتھ ساتھ چلی ہے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز کوپھر بند کردیا گیا





