Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی بڑی شرائط عائد،مکمل تفصیلات

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے 1.2 بلین ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری سے قبل پاکستان کے لیے 11 نئی شرائط عائد کر دیں۔ ان شرائط کے تحت، حکومت کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین کو تبدیل کرنا ہو گا تاکہ سرکاری اداروں (SOEs) کو بغیر مقابلے کے ٹھیکے دینے میں دی جانے والی ترجیح کو ختم کیا جا سکے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ جولائی 2026 سے گیس کی قیمتوں میں ہر چھ ماہ بعد نظر ثانی کی جائے گی جب کہ بجلی کے نرخوں میں جنوری 2027 سے سالانہ بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 2026-27 میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

مزید برآں، اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (STZs) سے متعلق قوانین میں نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس کے تحت ترمیم کی جائے گی، جس کے تحت دی جانے والی مالی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔

حکومت نے قومی احتساب بیورو آرڈیننس میں ترمیم کرنے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں آڈٹ کیسز کے انتخاب کے لیے مرکزی نظام متعارف کرانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ اقدامات فنانس بل 2026 کے تحت کیے جائیں گے، جس میں منافع پر مبنی سہولیات کو لاگت پر مبنی سہولیات میں تبدیل کرنا اور 2035 تک تمام مراعات کو ختم کرنا شامل ہے۔

اسی طرح چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت فراہم کی جانے والی مالی سہولیات بھی 2035 تک مرحلہ وار ختم کر دی جائیں گی، جبکہ اگلے بجٹ کی منظوری کے بعد ستمبر 2026 تک PPRA رولز میں ترامیم متوقع ہیں۔

آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اگلے ماہ 7 بلین ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جائزے کی تکمیل اور چوتھی قسط کے اجراء کی منظوری پر غور کرے گا۔
مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

یہ بھی پڑھیں