تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کی سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک مجرم کو پھانسی دے دی گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات میں پھانسی کی تصدیق کی گئی۔
ایرانی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ میزان کے مطابق مجرم مہدی فرید انٹیلی جنس ایجنسی کے سول ڈیفنس یونٹ میں اہم عہدے پر فائز تھا اور اس نے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معلومات حاصل کرکے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو فراہم کیں۔
مہدی فرید کے خلاف مختلف عدالتوں میں کیس کی سماعت ہوئی جس میں سزائے موت سنائی گئی اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا۔
ایرانی سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا کہ مجرم کو ہر قسم کی قانونی مدد فراہم کی گئی اور انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے۔ تمام قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد سزا سنائی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران نے جنوری میں ہونے والے مظاہروں سے متعلق ایک اور شخص کو پھانسی دے دی تھی۔ اس شخص پر موساد سے روابط رکھنے کا بھی الزام تھا۔
اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک ایران میں ایک درجن سے زائد افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔
تاہم ایران کی عدلیہ نے آٹھ خواتین کارکنوں کو پھانسی دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایسی جعلی خبروں پر تبصرہ کرنے سے پہلے تصدیق کرنی چاہیے۔
مزید پڑھیں:’کلاڈ میتھوس‘ تک چند غیر متعلقہ افراد نے رسائی حاصل کر لی


