Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

’کلاڈ میتھوس‘ تک چند غیر متعلقہ افراد نے رسائی حاصل کر لی

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں معروف اے آئی کمپنی Anthropic کے انتہائی جدید اور خفیہ ماڈل Claude Methos تک غیر مجاز رسائی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد سائبر سیکیورٹی ماہرین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ طاقتور ماڈل ابھی تک عام صارفین کے لیے جاری نہیں کیا گیا تھا اور اسے صرف مخصوص شراکت دار کمپنیوں کو ایک محدود ٹیسٹنگ پروگرام “پروجیکٹ گلاس ونگ” کے تحت فراہم کیا گیا تھا۔ تاہم حالیہ واقعے میں ایک تھرڈ پارٹی وینڈر کے ذریعے سسٹم میں موجود سیکیورٹی خامی کا فائدہ اٹھا کر چند غیر متعلقہ افراد نے اس تک رسائی حاصل کر لی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ رسائی کسی براہ راست سائبر حملے کے بجائے ایک کنٹریکٹر اکاؤنٹ کی معلومات کے غلط استعمال کے ذریعے ممکن ہوئی۔ مبینہ گروپ ایک پرائیویٹ ڈسکارڈ چینل پر سرگرم ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس ماڈل کو اس کے ابتدائی دور سے ہی استعمال کر رہا تھا۔

Anthropic کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ Claude Methos تک غیر مجاز رسائی کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق کمپنی کے اندرونی سسٹمز محفوظ ہیں اور خلاف ورزی صرف تھرڈ پارٹی ماحول تک محدود رہی ہے۔

یہ ماڈل اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے پہلے ہی توجہ کا مرکز تھا۔ مبینہ طور پر یہ جدید نظام سافٹ ویئر اور ویب سسٹمز میں موجود سیکیورٹی کمزوریوں کو شناخت کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے انتہائی حساس ٹیکنالوجی تصور کیا جاتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے طاقتور اے آئی سسٹمز کا غلط ہاتھوں میں جانا بڑے خطرات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف تحقیقاتی مقاصد بلکہ ممکنہ طور پر سائبر حملوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اے آئی انڈسٹری کے لیے ایک وارننگ ہے کہ تھرڈ پارٹی سیکیورٹی اور رسائی کنٹرول کو مزید سخت کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا مزید حساس ماڈلز بھی اسی طرح کسی غیر محفوظ چین کے ذریعے خطرے کی زد میں تو نہیں آ رہے۔

یہ بھی پڑھیں