کراچی(اوصاف نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالیاتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد بنیادی پالیسی ریٹ نئی سطح پر پہنچ گیا۔ مرکزی بینک کے اس فیصلے کو مہنگائی پر قابو پانے، روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے اور معاشی دباؤ کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا ہے۔مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جس کے بعد شرح سود 10.50 فیصد سے بڑھ کر 11.50 فیصد ہوگئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود میں اضافے کا فیصلہ موجودہ معاشی صورتحال، مہنگائی کے رجحان، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی اشاریوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق جب شرح سود بڑھائی جاتی ہے تو مارکیٹ میں قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے غیر ضروری اخراجات اور طلب میں کمی آتی ہے۔
شرح سود میں اضافے کے بعد ہاؤسنگ لون، کار فنانسنگ، پرسنل لون اور کاروباری قرضوں پر شرح منافع بڑھنے کا امکان ہے، جس سے شہریوں اور کاروباری طبقے پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب بینکوں میں جمع رقم پر منافع کی شرح میں اضافے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ شرح سود بڑھانے کا مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے، تاہم اس سے کاروباری سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ سکتی ہے اور نئی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔
اس فیصلے کا اثر حکومتی قرضوں پر بھی پڑے گا کیونکہ بلند شرح سود کے باعث حکومت کو قرضوں پر زیادہ ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں مہنگائی، ڈالر کی صورتحال اور عالمی معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے مزید مالیاتی فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے عندیہ دیا ہے کہ معیشت کو مستحکم رکھنے کیلئے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:اقوامِ متحدہ میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق کانفرنس ، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی
