اسلام آباد(اوصاف نیوز)ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 220 روپے تک اضافے کی خبروں نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی دباؤ اور محصولات میں اضافے کے پیش نظر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
تاہم متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل باقاعدہ سمری، منظوری اور نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم قیمتوں کا تعین عام طور پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکسز و لیویز کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں اوگرا کی سفارشات اہم کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ حتمی منظوری وفاقی حکومت دیتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس سطح کا اضافہ کیا گیا تو اس کے معیشت اور مہنگائی پر شدید اثرات مرتب ہوں گے، تاہم موجودہ صورتحال میں ایسی خبروں کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کو گمراہ کن اطلاعات سے بچنا چاہیے اور صرف مستند ذرائع یا سرکاری اعلانات پر ہی انحصار کرنا چاہیے۔ فی الحال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 220 روپے اضافے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ یا اعلان سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کا نام بدل کر آبنائے ٹرمپ رکھ دیا


