واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا کو ایران میں تمام اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے صرف 2 ہفتے درکار ہوں گے۔ ان کے بقول ایران کو عسکری طور پر شکست ہوئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صورتحال مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
آزاد صحافی چیرل ایٹکنسن کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
Q: Is it accurate to say you think the combat operations in Iran are over and done?
Trump: No, I didn’t say that. I said they are defeated, but that doesn’t mean they’re done. We could go in for two more weeks and do every single target.
We’ve done probably 70% of the targets.… pic.twitter.com/1x3ujw0wZg
— Clash Report (@clashreport) May 10, 2026
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران میں اب تک تقریباً 70 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا ہے جب کہ ابھی مزید اہداف باقی ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق آپریشن جاری رہا تو دو ہفتوں میں تمام اہداف کو مکمل طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران حالات کو اپنے ذہن میں مختلف انداز سے دیکھ سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے فوجی شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاملہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے بلکہ یہ صرف آخری مراحل ہیں۔
اسی انٹرویو میں امریکی صدر نے نیٹو پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے ’’کاغذی شیر‘‘ قرار دیا اور کہا کہ مغربی اتحاد کے اتحادی ایران کے خلاف کارروائی میں امریکا کا ساتھ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ نیٹو کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اتحاد وہ کردار ادا نہیں کر سکا جس کی توقع تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین تجاویز پر ردعمل ظاہر کر رہا ہے جب کہ خطے میں تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رواں سال فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ان حملوں میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت ہزاروں افراد شہید ہوئے جن میں خواتین، بچے، فوجی کمانڈر اور سرکاری اہلکار شامل تھے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی جنگ کے 40 دن بعد عمل میں آئی لیکن اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
مزید پڑھیں:بینک صارفین ہوشیار!اہم وارننگ جاری


