پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال ریٹ 19 مئی سے 30 مئی 2026 کے دوران مجموعی طور پر مستحکم رہا، جبکہ تاجروں اور سرحدی کاروبار سے وابستہ افراد کی دلچسپی بھی برقرار دیکھی گئی۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق کراچی، کوئٹہ اور لاہور کی اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال (10 ملین IRR) کا بنڈل ہفتے بھر 8 ہزار سے 10 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان فروخت ہوتا رہا۔ اس عرصے میں قیمت میں کوئی نمایاں اتار چڑھاؤ سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ عالمی سطح پر ایرانی ریال دباؤ کا شکار ہے، تاہم پاکستان میں غیر رسمی مارکیٹ میں اس کی مانگ برقرار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت اور بعض سرمایہ کاروں کی جانب سے مستقبل میں ممکنہ منافع کی امید ہے۔
اوپن مارکیٹ میں موجودہ اندازوں کے مطابق ایک پاکستانی روپیہ تقریباً ایک ہزار ایرانی ریال کے برابر خریدا جا رہا ہے، جبکہ 10 پاکستانی روپے کے عوض تقریباً 10 ہزار ایرانی ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی یا مڈ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4700 سے 4820 ایرانی ریال کے برابر رہا۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی مارکیٹ میں ایرانی ریال کو عالمی نرخوں کے مقابلے میں نمایاں پریمیم حاصل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی ریال ریٹ پر علاقائی سیاسی صورتحال، ایران سے متعلق عالمی پابندیاں اور سرحدی تجارتی سرگرمیاں براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے سرمایہ کاروں اور خریداروں کو محتاط رہنے اور صرف مستند ایکسچینج کمپنیوں سے لین دین کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
کرنسی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق مئی کے آخری ہفتے میں مارکیٹ نسبتاً پرسکون رہی اور نہ تو کوئی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا اور نہ ہی بڑی کمی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خریدار اور فروخت کنندگان دونوں محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔