کراچی: ایرانی ریال ریٹ میں مئی 2026 کے دوران وہ تیزی دیکھنے میں نہیں آئی جس کی توقع بہت سے سرمایہ کار اور چھوٹے تاجر کر رہے تھے۔ غیر رسمی مارکیٹ میں ریال کی قیمت مستحکم رہی، تاہم متوقع بڑا اضافہ نہ ہونے پر خریداروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کا بنڈل مئی بھر تقریباً 8 ہزار سے 10 ہزار روپے کے درمیان فروخت ہوتا رہا۔ اگرچہ یہ سطح ماضی کے مقابلے میں کافی بلند رہی، لیکن وہ غیر معمولی چھلانگ سامنے نہیں آئی جس کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں۔
بعض سرمایہ کاروں نے ایران سے متعلق تجارتی اور سفارتی پیش رفت کے باعث ریال کی قیمت میں نمایاں اضافے کی امید پر سرمایہ کاری کی تھی۔ تاہم ایرانی ریال ریٹ تقریباً ایک ہی حد میں برقرار رہا، جس کے باعث منافع کی توقع رکھنے والے افراد مایوسی کا شکار ہیں۔
کرنسی مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت، ایندھن اور دیگر اشیاء کی نقل و حمل کی وجہ سے ریال کی طلب برقرار ہے، لیکن مارکیٹ میں کرنسی کی دستیابی اور عالمی سطح پر ایرانی ریال کی کمزور پوزیشن نے قیمتوں کو تیزی سے اوپر جانے سے روکے رکھا۔
بین الاقوامی شرح تبادلہ کے مطابق ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4700 سے 4730 ایرانی ریال کے برابر رہا، جبکہ مقامی اوپن مارکیٹ میں اس کے مقابلے میں کافی زیادہ قیمت دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق آنے والے ہفتوں میں اگر ایران سے متعلق علاقائی سیاست، پابندیوں یا تجارتی معاہدوں میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہے تو ریال کی قیمت میں تبدیلی آسکتی ہے۔ تاہم فی الحال مارکیٹ محدود دائرے میں رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سرمایہ کاری کے ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ افواہوں کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے بجائے مستند معلومات اور مارکیٹ رجحانات کو مدنظر رکھا جائے۔