Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

گلگت بلتستان انتخابات،24 میں سے 20 نشستوں کے سرکاری نتائج کا اعلان کردیا گیا

گلگت(نیوز ڈیسک) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 24 میں سے 20 نشستوں کے سرکاری نتائج کا اعلان کردیا گیا، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 9 نشستیں حاصل کرکے سرفہرست جماعت بن کر ابھری۔

اب تک جاری ہونے والے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 9، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 5، آزاد امیدواروں نے 5 اور مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے ایک نشست حاصل کی ہے۔

 

پارٹی کتنی سیٹیں جیتی
پاکستان پیپلز پارٹی 9
پاکستان مسلم لیگ  ن 5
آزادامید وار 5
مجلس وحدت المسلمین 1

 

مزید برآں، الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے بدانتظامی اور امن و امان کی صورتحال کی رپورٹس کے بعد مختلف سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حوالہ دیتے ہوئے باقی نشستوں کے نتائج کو روک دیا ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھرنے کے بعد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز اب ایک ہی سوال بن گیا ہے کہ گلگت بلتستان کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟

فارم 47 کے مطابق پیپلز پارٹی کی شاندار کامیابی کے بعد وزارت اعلیٰ کے لیے پارٹی کے اندر کئی مضبوط نام گردش کر رہے ہیں۔

سیاسی حلقوں، کارکنوں اور مبصرین کی نظریں اب پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں جو آنے والے دنوں میں صوبے کی سیاسی سمت کا تعین کرے گی۔

وزارت اعلیٰ کے امیدواروں میں سب سے نمایاں نام امجد حسین ایڈووکیٹ کا ہے جو حلقہ GBA 1 گلگت-1 سے کامیاب ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر ہیں۔

امجد حسین ایڈووکیٹ نے نہ صرف اپنی نشست جیتی بلکہ صوبے بھر میں انتخابی مہم کی قیادت بھی کی۔ پارٹی کو سب سے بڑی سیاسی قوت بنانے میں ان کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے سیاسی مبصرین انہیں وزارت اعلیٰ کے لیے مضبوط ترین امیدوار تصور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب جی بی اے 9 سکردو 3 سے جیتنے والے سابق سپیکر فدا محمد ناشاد کو بھی وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

فدا محمد ناشاد 2015 سے 2020 تک گلگت بلتستان اسمبلی کے سپیکر رہے اور پارلیمانی امور اور حکومتی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بلتستان ڈویژن کے سیاسی حلقوں میں ان کے نام پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

وزارت اعلیٰ کے ممکنہ امیدواروں میں جی بی اے 8 سکردو 2 سے جیتنے والے سید توقیر مہدی کا نام بھی سرفہرست ہے۔ پارٹی کے اندر اپنے اثرورسوخ اور اہم شخصیات سے قریبی تعلقات کی وجہ سے انہیں ممکنہ امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

اسی طرح نگر سے جیتنے والے محمد علی اختر بھی پارٹی کے وفادار اور دیرینہ کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پارٹی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ کارکنوں سے ان کی وابستگی اور مسلسل سیاسی جدوجہد انہیں وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں بھی رکھ سکتی ہے۔

ادھر غذر سے جیتنے والے سید جلال علی شاہ کا نام بھی سیاسی منظر نامے پر زیر بحث ہے۔ وہ پیر کرم علی شاہ مرحوم کے صاحبزادے ہیں اور پارٹی کے سینئر رہنما کے طور پر انہیں ایک تجربہ کار سیاسی شخصیت بھی سمجھا جاتا ہے۔ غذر اور بالائی علاقوں کے کارکنوں کی طرف سے بھی ان کے حق میں آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

تاہم تمام تر سیاسی قیاس آرائیوں اور ناموں کے باوجود پیپلز پارٹی کے اندرونی اور سیاسی مبصرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ امجد حسین ایڈووکیٹ اس وقت وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔

مزید پڑھیں۔وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش ہوگا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب

یہ بھی پڑھیں