Search
Close this search box.
منگل ,16 جون ,2026ء

امریکا میں پٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن سے نیچے آ گئی، صارفین کو ریلیف ملنے کی امید

نیویارک(نیوز ڈیسک) امریکا میں خوردہ سطح پر پٹرول کی اوسط قیمت اپریل کے وسط کے بعد پہلی بار چار ڈالر فی گیلن سے نیچے آ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی امن معاہدے کے بعد عالمی تیل منڈی میں پیدا ہونے والی امید ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط ہونے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو چار ڈالر فی بیرل سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی، جو عالمی تیل ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں کمی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی طور پر بھی خوش آئند خبر ہے، کیونکہ حکومت نے صارفین کے لیے توانائی کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں پر ٹرمپ اور ریپبلکن قانون سازوں کو عوامی تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق چار ڈالر فی گیلن کی سطح ایک نفسیاتی حد سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس سے اوپر قیمتیں جانے پر بہت سے صارفین اپنے سفر اور ایندھن کے استعمال میں کمی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ گیس بڈی (GasBuddy) کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو امریکا میں پٹرول کی اوسط قیمت 3.997 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی، جو اپریل کے بعد پہلی بار چار ڈالر سے کم سطح ہے۔ تاہم یہ قیمت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اب بھی تقریباً 91 سینٹ زیادہ ہے۔

دوسری جانب امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (AAA) کے مطابق پیر کو قومی اوسط قیمت 4.065 ڈالر فی گیلن رہی۔ گیس بڈی کے پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اب آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی ہے۔ ان کے مطابق اگر بحری راستہ کھل جاتا ہے اور تیل کی ترسیل معمول پر آ جاتی ہے تو پٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی جا سکتی ہے، بشرطیکہ امریکا اور ایران کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہیں۔

مزید پڑھیں۔بارشوں کے نئے اسپیل کا آغاز،پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش

یہ بھی پڑھیں