Search
Close this search box.
منگل ,16 جون ,2026ء

پنجاب حکومت 5131 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کرے گی، تنخواہ، پنشن میں 7 فیصد اضافہ متوقع

لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت آج آئندہ مالی سال کا 5 ہزار 131 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کرے گی جس میں ترقیاتی، سماجی اور فلاحی شعبوں کے لیے اہم اعلانات متوقع ہیں۔

صوبائی وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن بجٹ تقریر کریں گے اور اہم مالی دستاویزات اور بل ایوان میں پیش کریں گے، وہ آئندہ مالی سال کے لیے سالانہ مالیاتی گوشوارہ پیش کریں گے، جبکہ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے لیے ضمنی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن پنجاب فنانس بل 2026 بھی متعارف کرائیں گے اور پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 کی دفعات 5 اور 76 میں ترامیم سے متعلق نوٹیفکیشنز ایوان میں پیش کریں گے، اس کے علاوہ وہ آنے والے مالی سال کے لیے مالیاتی خطرات سے متعلق بیان بھی پیش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کو ترقیاتی بجٹ میں مالی رعایت دینے کے بعد پنجاب کے ترقیاتی اخراجات کا حصہ 47 فیصد تک محدود رہ گیا ہے، پنجاب حکومت وفاق کو اب تک 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دے چکی ہے۔

بجٹ تخمینوں کے مطابق پنجاب کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابل تقسیم محاصل کی مد میں 3 ہزار 793 ارب 70 کروڑ روپے ملنے کا امکان ہے جبکہ صوبائی محصولات سے 1 ہزار 330 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔

وفاق کی طرز پر صوبائی ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ متوقع ہے، تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے اور پنشن کی مد میں 505 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، پنجاب فنانس کمیشن کے لیے 800 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ترقیاتی اور فلاحی شعبوں میں بھی بڑے اعلانات متوقع ہیں، سماجی تحفظ کے لیے 25 ارب روپے، ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 150 ارب روپے جبکہ آپریشنل اخراجات کے لیے 580 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

دوسرے ترقیاتی و سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 570 ارب روپے اور بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، مجموعی طور پر صوبائی اخراجات کا تخمینہ 3 ہزار 569 ارب 60 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 680 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، جس میں مفت ادویات کے لیے 100 ارب روپے بھی شامل ہیں، کینسر اور فالج کے مریضوں کے علاج کے لیے خصوصی فنڈز بھی رکھے جائیں گے۔

تعلیم کے شعبے کے لیے 900 ارب روپے سے زائد بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ، الیکٹرک سکوٹیز اور سائیکل اسکیمیں بھی بجٹ کا حصہ ہوں گی، ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 20 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے 200 ارب روپے سے زائد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، رمضان پیکج کے لیے 35 ارب روپے اور سبسڈی کی مد میں 80 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کا امکان ہے۔

یونیورسٹی گرانٹس کے لیے 18 ارب روپے جبکہ کسان کارڈ کے لیے 10 ارب روپے، ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کے لیے 3 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

بجٹ میں حکومت کی ترجیح ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، سماجی تحفظ کے فروغ اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری قرار دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں۔سری لنکا اےکے ہاتھوں شکست کے بعد بھارتی ٹیم آپے سے باہر ہوگئی، لڑائی کی ویڈیو وائرل

یہ بھی پڑھیں