Search
Close this search box.
منگل ,16 جون ,2026ء

امن معاہدے کے بعد ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ

تہران/اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی پیش رفت کے بعد ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ایرانی ریال کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت میں 2 ہزار سے 3 ہزار روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت تقریباً ساڑھے 3 ہزار سے ساڑھے 4 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

ایکس چینج کمپنیز سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ممکنہ معاہدے کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے، جس کے باعث ایرانی ریال کی خریداری میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی خریداروں نے صرف دو روز کے دوران تقریباً 60 ارب ایرانی ریال خریدے، جن کی مالیت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 25 کروڑ روپے بنتی ہے۔ کرنسی مارکیٹ میں یہ سرگرمی کئی ماہ بعد دوبارہ دیکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق چند ماہ قبل بھی جنگ بندی کی خبروں کے بعد ایرانی ریال کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا، تاہم بعد ازاں خطے میں کشیدگی بڑھنے پر اس کی قدر دوبارہ گر گئی تھی۔ اب ایک بار پھر مثبت سیاسی پیش رفت نے ایرانی کرنسی کی قدر کو سہارا دیا ہے۔

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے کیونکہ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان صرف مفاہمت کی یادداشت طے پائی ہے۔ حتمی معاہدے تک ایرانی ریال میں اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔

ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایرانی معیشت اور کرنسی دونوں مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات خطے کی مالیاتی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں