Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

نسٹ کا ماحول دوست توانائی پر انحصار کی جانب بڑا اقدام،3.5 میگا واٹ شمسی توانائی کی تنصیب کا آغاز

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی)نسٹ( نے اپنے ایچ-12 کیمپس میں 3.5 میگاواٹ شمسی توانائی نظام نصب کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ منصوبے کے تحت جامعہ میں جدید سولر پی وی سسٹم نصب کیا جائے گا، جس سے روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم ہونے کے ساتھ ساتھ کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک شفاف اور مسابقتی عمل سے گذرتے ہوئے نسٹ اور فاونڈیشن انرجی پرائیویٹ لِمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ طے پاچکا ہے۔
نسٹ انتظامیہ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 3.5 میگاواٹ کا یہ منصوبہ جامعہ کی توانائی ضروریات کو ماحول دوست ذرائع سے پورا کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور ادارے کو مرحلہ وار مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے ہدف کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

ریکٹر نسٹ ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے اس موقع پر کہا کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار اور عملی حل اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب نسٹ مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق جامعات کی ذمہ داری صرف علم کی تخلیق تک محدود نہیں بلکہ انہیں پائیدار ترقی اور ذمہ دارانہ وسائل کے استعمال میں عملی مثال بھی قائم کرنی چاہیے۔

اس اقدام کی منصوبہ بندی اور تکنیکی رہنمائی میں نسٹ کے یو ایس-پاک مرکز برائے اعلی علومِ توانائی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جامعہ کا کہنا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں یہ سرمایہ کاری نہ صرف ماحولیاتی تحفظ بلکہ جدت پر مبنی ترقی اور پاکستان کے بدلتے ہوئے توانائی منظرنامے سے ہم آہنگی کی عکاس ہے۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں نسٹ اور فاؤنڈیشن سولر انرجی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں۔پنجاب پی پی آر اے، پی آئی ٹی بی اور بینک آف پنجاب کا مشترکہ اقدام، جولائی سے صوبے میں پروکیورمنٹ سسٹم کے آغاز کیلئے آگہی سیمینار

یہ بھی پڑھیں