ایبٹ آباد: ایوب میڈیکل کمپلیکس ویڈیو اسکینڈل کے مبینہ واقعے نے اسپتالوں میں مریضوں کی رازداری اور سیکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خاتون مریضہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال کے ایک مرد ملازم نے واش روم کے اندر اس کی خفیہ ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق خاتون مریضہ علاج کی غرض سے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں موجود تھی۔ جب وہ واش روم استعمال کرنے گئی تو مبینہ طور پر ایک ملازم نے اپنا موبائل فون دروازے کے نیچے سے اندر کر کے اس کی ویڈیو ریکارڈ کی۔ متاثرہ خاتون نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ حکام اور پولیس کو آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق خاتون نے باقاعدہ شکایت درج کراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف مریضوں کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں بلکہ صحت کے اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
پولیس حکام نے شکایت موصول ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تفتیشی ٹیم واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ اسپتال انتظامیہ سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
شہری اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار فرد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ایوب میڈیکل کمپلیکس ویڈیو اسکینڈل کے بعد اسپتالوں میں سیکیورٹی اور رازداری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
