لاہور: داتا دربار کیش باکس چوری کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں محکمہ اوقاف نے کروڑوں روپے کی مبینہ خردبرد کا نوٹس لیتے ہوئے دو منیجرز کو برطرف کر دیا، جبکہ سوا کروڑ روپے کی ریکوری کا بھی حکم جاری کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق داتا دربار میں نصب کیش باکسز سے رقم کی مبینہ چوری سامنے آنے کے بعد وزارت اوقاف نے فوری تحقیقات شروع کیں۔ ابتدائی کارروائی کے دوران ذمہ داری عائد ہونے پر دو منیجرز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
وزارت اوقاف کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق متعلقہ افراد سے سوا کروڑ روپے کی ریکوری کی جائے گی، جبکہ معاملے کی مکمل تحقیقات بھی جاری ہیں تاکہ اگر مزید افراد ملوث ہوں تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
پنجاب کے وزیر اوقاف و مذہبی امور چودھری شافع حسین نے کہا کہ مزارات پر نصب کیش باکسز میں جمع ہونے والی رقم عوام کی امانت ہے، جس کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ داتا دربار کیش باکس چوری جیسے واقعات ناقابل برداشت ہیں اور محکمہ اوقاف کو ہر قسم کی بدعنوانی سے پاک کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے بھر کے مزارات پر نصب کیش باکسز کی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹائزیشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے چندوں اور عطیات کی وصولی کا ریکارڈ زیادہ شفاف انداز میں محفوظ کیا جا سکے گا اور مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام ممکن ہوگی۔
وزارت اوقاف کا کہنا ہے کہ نئی مانیٹرنگ پالیسی کے تحت مزارات پر مالی معاملات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔


