Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

پاکستان دنیا میں سولر پینلز کا تیسرا بڑا درآمد کنندہ بن گیا، 2024 میں 17 گیگاواٹ سسٹمز درآمد

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان دنیا میں سولر پینلز درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے، جہاں 2024 کے دوران 17 گیگاواٹ کے سولر پاور سسٹمز درآمد کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا ہیں۔

وزارتِ خزانہ اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے اشتراک سے تیار کی گئی پاکستان کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان (CPP) رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگی بجلی، بڑھتے گردشی قرضے اور توانائی کے شعبے کے مالی مسائل سے نمٹنے کے لیے بجلی کی خریداری کے مہنگے معاہدوں (PPAs) پر نظرثانی، حقیقت پسندانہ ٹیرف، اور پرانے و غیر مؤثر فوسل فیول پاور پلانٹس کو مرحلہ وار بند یا تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے 2024 میں 17 گیگاواٹ کے سولر سسٹمز درآمد کیے، جو 2023 کے مقابلے میں دوگنا ہیں، اور اسی بنا پر پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینلز درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

رپورٹ میں توانائی کے شعبے کے لیے متعدد اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں 2030 تک توانائی میں 60 فیصد حصہ صاف توانائی کا بنانا، 2035 تک مجموعی بجلی کا 50 فیصد قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنا، اور 2040 تک بجلی کی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 95 فیصد تک پہنچانا شامل ہے۔

اس کے علاوہ 2035 تک 14 ہزار میگاواٹ فوسل فیول پاور پلانٹس کو مرحلہ وار بند یا متبادل ایندھن پر منتقل کرنے، بجلی کی ترسیل و تقسیم میں نقصانات کو 19 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد تک لانے، ملک بھر میں 100 فیصد بجلی کی فراہمی یقینی بنانے، تمام سرکاری سیکنڈری اسکولوں کی چھتوں پر سولر سسٹمز نصب کرنے اور 2030 تک سالانہ 20 کروڑ ٹن کاربن کریڈٹس پیدا کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی کے خطرات نے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے بجلی مہنگی ہوئی اور گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے ایسی مہنگی پیداواری صلاحیت کی ادائیگیاں کر رہا ہے جسے مکمل طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا رہا۔

رپورٹ کے مطابق شمسی، ہوا، پن بجلی اور مقامی بایو ماس جیسے مقامی قابلِ تجدید ذرائع کی جانب منتقلی سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی آئے گی، توانائی کا تحفظ بہتر ہوگا اور کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی ممکن ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر سولر اور ونڈ فارمز، توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید سہولتوں اور قومی گرڈ کی جدیدکاری میں سرمایہ کاری سے نہ صرف بجلی کا نظام زیادہ مستحکم ہوگا بلکہ کم استعمال ہونے والے بجلی گھروں کی گنجائش کی مد میں ادا کیے جانے والے بھاری اخراجات بھی کم ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سولر پینلز کی درآمدات میں غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجوہات بجلی کے بلند نرخ اور عالمی منڈی میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہیں۔

رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ نئے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کے لیے شفاف نیلامی کا نظام متعارف کرایا جائے، نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کریڈٹ گارنٹی کا دائرہ وسیع کیا جائے، اور بجلی کے گرڈ کی اپ گریڈیشن و توانائی کی بچت کے منصوبوں پر سرمایہ کاری بڑھائی جائے تاکہ جدید، سستا اور پائیدار توانائی کا نظام تشکیل دیا جا سکے۔

مزید پڑھیں۔شاہد آفریدی خیبر پختونخوا چیمپئنز کرکٹ لیگ کے برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

یہ بھی پڑھیں