اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے وفاقی سیاست میں مزید فعال کردار ادا کرنے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں وزیراعظم آفس میں دفتر بھی الاٹ کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حمزہ شہباز کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ سرکاری عہدہ نہیں دیا گیا، تاہم وہ حکومتی اور پارلیمانی امور میں رابطہ کاری کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز قومی اسمبلی کے ارکان اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں رہیں گے، جبکہ انہیں ارکان اسمبلی کے حلقوں سے متعلق مسائل کو حکومتی سطح پر مربوط انداز میں حل کرانے کا ٹاسک بھی سونپا جائے گا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی مصروفیات کے باعث متعدد ارکان اسمبلی کو ملاقات کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے، ایسے میں حمزہ شہباز رابطہ کاری کے ذریعے ان مسائل کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کریں گے۔
ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ وزیراعظم آفس کی چھٹی منزل پر حمزہ شہباز کے لیے دفتر اور عملہ مختص کیا گیا ہے، جبکہ ان کے دفتر کے ساتھ ایک میٹنگ روم بھی موجود ہوگا جہاں وہ مختلف وفود اور ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق حمزہ شہباز اس سے قبل بھی شہباز شریف کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب دور میں صوبائی اسمبلی کے ارکان کے ساتھ رابطہ کاری کی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ وہ اس وقت لاہور کے حلقہ این اے-118 سے رکن قومی اسمبلی بھی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے مشیر کا ایک عہدہ اس وقت خالی ہے اور آئین کے مطابق وزیراعظم پانچ مشیر مقرر کر سکتے ہیں، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیاسی تنقید سے بچنے کے لیے حمزہ شہباز کو مشیر یا معاون خصوصی بنانے کے بجائے کوارڈی نیٹر کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔
تاہم اس حوالے سے وزیراعظم آفس یا وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔
