لندن (انٹرنیشنل ڈیسک )برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف ان دنوں شدید ڈپریشن کا شکار ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتخابی نتائج ویسے نہیں آئے جیسے ان سے وعدے کیے گئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تین با ر وزیراعظم رہنے والے نواز شریف نے عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئے انتخابات کے بجائے شہباز شریف کو وزیراعظم بننے کی اجازت دے کر بظاہر ایک بڑی غلطی کی ہے۔
مزیدپڑھیں:بجلی اور گیس کتنی اورمہنگی ہوگی؟ عوام کے صبر کو کب تک آزمائیں گے،نواز شریف
دی اکانومسٹ کے مطابق ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ملکی مسائل سے صرف عوام یا سیاستدان ہی پریشان نہیں ہیں، بلکہ اس بار اسٹیبلشمنٹ بھی الجھن کا شکار دکھائی دے رہی ہے، نواز شریف کی پریشانی یہ بھی ہے کہ پارٹی کو نئی زندگی دینے میں بھی کامیاب نہیں رہے، اگر ن لیگ کو انتخابات میں “مدد” نا ملتی تو ن لیگ قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں بھی ناکام رہتی۔
برطانوی جریدے نے مزید کہا ہے کہ 2022 میں عمران خان کو حکومت سے نکالنا بظاہر ان کے خلاف جاتا دکھائی دے رہا تھا، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ یہ ٹائمنگ قدرتی طور پر ان کے حق میں گئی ہے، عمران خان سے ان کے حامیوں کو دو رکھنے کی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔


