Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دینے کے بعدان کی ڈیڈباڈی کیساتھ کیا ہوا تھا؟جیلر نے پہلی دفعہ ٹی وی پر ہوشربا انکشا ف کردیا

راولپنڈی(نیوزڈیسک) سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اپریل 1979 میں راولپنڈی کی جیل میں پھانسی دی گئی تھی، جہاں انہیں ایک سیاسی حریف کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں قید رکھا گیا تھا، اور اب ان کی موت کے 45 سال بعد چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق پی پی پی کے بانی کواس وقت کے صدر ضیاء الحق کی زیر قیادت فوجی حکومت کے اہلکاروں کی موجودگی میں پھانسی دی گئی۔

اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ مجید قریشی نےنجی ٹی وی کو اپنے پہلے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بھٹو نے جیل حکام کو بتایا کہ انہوں نے کبھی کسی کو قتل کرنے کی ہدایت نہیں کی، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمہ من گھڑت ہے۔ذوالفقارعلی بھٹو نے کہاکہ انہیں مسلم ممالک کو متحد کرنے کی کوششوں پر قتل کے الزامات میں پھنسایاگیا ہے جو کہ غیر ملکی سازش ہے ۔

جیلر نےذوالفقارعلی بھٹو، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہونے والی جذباتی آخری ملاقات بارے بھی بتایا،اس دوران انہیں ایک دل دہلا دینے والا منظر یاد آیا جب بینظیر نے اپنے والد کے ہاتھ اور ماتھے کو چوما،اس وقت بے نظیر سلاخوں کے پیچھے بیٹھی تھیں۔ بھٹو نے اپنی بیٹی کی پیشانی کو بھی بوسہ دیا، اور انہوں نے سرگوشیوں میں الفاظ کا تبادلہ کیا۔

پھانسی کے دن جیلر نے کہا کہ بھٹو نے جیل کے اہلکاروں کو اپنے آخری الفاظ میں کپڑا ہٹانے کو کہا۔پھانسی کے بعد انتظامیہ کے پروٹوکول کے مطابق بغیر کپڑوں کے بھٹو کی لاش کی تصاویر لی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں