Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

حکومت نے گزشتہ 2 ماہ میں بینکوں سے47 کھرب روپےاضافی قرضہ لیا

حکومت نے گزشتہ 2 ماہ کے دوران بینکوں سے 700 ارب روپے کے اضافی قرضے لیے جس کے بعد ان کا حجم 47 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومت نے جولائی تا مارچ کے دوران ریکارڈ 46 کھرب 90 ارب روپے کا قرضہ لیا۔

بھاری مقروض ہونے کی وجہ سے نجی شعبہ 70 فیصد کم قرضہ لیےجس کے نتیجے میں معاشی ترقی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اہم محصولات کی وصولی کے باوجود، ریکارڈ قرضہ حکومت کے بھاری اخراجات کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ قرضے کی لاگت پر غور کیے بغیر، حکومت کی جانب سے ریکارڈ شرحوں پر قرضہ لیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں :  شہریار آفریدی کی پارٹی قیادت کو دھمکی،پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے

نگراں حکومت نے یکم جولائی سے 19 جنوری 2023-24 کے دوران 39 کھرب 90 ارب روپے کا ریکارڈ قرض لیا جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 13 کھرب 98 ارب روپے سے 185 فیصد زیادہ ہے۔

مالی سال 2022 اور مالی سال 2023 کے دوران حکومت نے بینکوں سے بالترتیب 34 کھرب 48 ارب روپے اور 37 کھرب 16 ارب روپے کے قرضے لیے۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ قرض لینے کے موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے، حکومت جون 2024 تک مجموعی طور پر 65 ٹریلین روپے سے 70 ٹریلین روپے تک قرض لے سکتی ہے۔ قرضوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی آمدنی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

لاپرواہی سے قرض لینے سے نہ صرف سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کل بجٹ کے تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، بلکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں بھی کمی کر رہے ہیں۔

مالی سال 2023 کے دوران اقتصادی ترقی منفی رہی، اور حالیہ رجحانات بتاتے ہیں کہ نمو گزشتہ سال جیسی ہو سکتی ہے، نجی شعبہ اپنے وسائل پر انحصار کر رہا ہے جبکہ ملکی سرمایہ بھی نمایاں طور پر کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں