اسلام آباد: سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی تیاریاں جاری ہیں، پمز کو بتدریج آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کو ٹھیکے پر دینے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں، وزارت صحت کے ذرائع نے بتایا کہ پمز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز کو مرحلہ وار آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ ہے، پہلے مرحلے میں پمز کے شعبہ ریڈیولاجی، لیب کو آؤٹ سورس کیا جائے گا اور دوسرے مرحلے میں پمز کے دیگر شعبہ جات کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: وارننگ جاری ہونے کے 20 منٹ بعد جاپان کے مختلف صوبے زلزلے سے لرز اٹھے
ذرائع نے بتایا ہے کہ تیسرے مرحلے میں پمز کی اربوں مالیت کی اراضی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا، پمز اسپتال کی رہائشی کالونی میں رہائشی ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے۔
پمز ملازمین نے عید کے بعد نجکاری کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے اور پمز ملازمین کی یونینز نے عید کے بعد احتجاج کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
