پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے عدلیہ کو خیبرپختونخوا کا تیسرا کرپٹ ادارہ قرار دینے کے معاملے پر بطور چیف جسٹس حتمی فیصلہ جاری کردیا۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے خلاف کیس کا 31 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2023 کو دوبارہ شائع کیا جائے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں غیر موجود ڈیٹا شامل کرکے حقائق پر مبنی رپورٹ شائع کی جائے۔
مزید پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز نے مستقل ججز کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا
حکم نامے میں کہا گیا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 24 اپریل تک رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ کو رپورٹ پیش کرے، سروے کے دوران مسترد ہونے والے فارمز کی کل تعداد رپورٹ میں شائع کی جائے۔
پشاور ہائی کورٹ نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں رائے عامہ کے تمام تناسب کو واضح طور پر شائع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پڑھنے والوں کے لیے کوئی ابہام نہ چھوڑا جائے۔
عدالت نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2023 کی رپورٹ کو درست کرنے کے لیے پہل کرنی چاہیے تھی۔


